Bharat Express DD Free Dish

ICC Cricket Match

ہیلی میتھیوز نے 94 گیندوں پر 100 رنز کی شاندار سنچری اسکور کی، جس میں 14 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد اسٹیفنی ٹیلر نے ذمہ داری کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھایا اور ناقابلِ شکست 104 رنز بنا کر ٹیم کو 39 اوورز میں فتح سے ہمکنار کر دیا۔ ٹیلر نے اپنی 105 گیندوں کی اننگز میں 16 چوکے لگائے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا خطاب اپنے نام کر لیا۔ اتوار کو احمد آباد کے نریندر مودی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل مقابلے میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو یکطرفہ مقابلے میں 96 رنز سے شکست دی۔ اس تاریخی جیت کے ساتھ بھارت نے تیسری مرتبہ ٹی20 عالمی کپ کی ٹرافی جیت لی اور اپنی سرزمین پر یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا ملک بھی بن گیا۔

پاکستانی ٹیم سست پچ کا فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط اسپن اٹیک کے ساتھ میدان میں اتر سکتی ہے۔ ٹیم میں عثمان طارق، صائم ایوب، ابرار احمد، شاداب خان اور محمد نواز جیسے اسپنرز موجود ہیں، جو انگلینڈ کی بیٹنگ لائن اپ کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں،

ورون چکرورتی نے کہا کہ کچھ لوگ ان کے گھر پہنچے تھے۔ مجھے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کے بعد دھمکی آمیز کالز موصول ہوئیں۔ لوگوں نے کہا ہندوستان مت آنا۔ اگر تم  کوشش کروگے،تو تم کوشش میں کامیاب نہیں سکتے ۔

افغانستان ٹیم کے فاسٹ بولر کریم جنت نے کہا کہ مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے بہت دکھ ہوا کہ میرے قریبی دوست اور حضرت اللہ زازئی میرے بھائی کی بیٹی اس جہان فانی سے رخصت ہوگئی

اس کے ساتھ ہی ممبئی انڈینس کے اسٹار آل راؤنڈر نیٹ سائیور برنٹ نے ایک بار پھر پلے آف میں اپنی صلاحیت ثابت کردی۔

پاک بھارت میچ میں ٹاس کا رول  اہم ہونے جا رہا ہے۔ اگر ٹیم انڈیا ٹاس جیتتی ہے تو وہ پہلے گیند بازی کرنے میدان میں آ سکتی ہے۔ روہت شرما کی قیادت میں ٹیم تعاقب میں ماہر ہے۔ بھارت کے پاس مہلک باؤلنگ اٹیک ہے۔

 چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ اس میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 60 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی۔ ادھر بھارت نے دوسرے میچ میں بنگلہ دیش کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ …

محسن رضا نقوی نے نام لیے بغیر بھارت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ سرحد پار بیٹھے بہت سے لوگ ہمارے فیلڈ اور سسٹم میں چھوٹی سے چھوٹی خامی تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں ایسا کوئی موقع نہیں ملنے والا،

جوس بٹلر کا مزید کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ فیملی کے ساتھ رہنے سے کھیل میں زیادہ فرق پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیملی کی موجودگی پیشہ ورانہ وابستگیوں میں رکاوٹ نہیں بنتی۔