Bharat Express DD Free Dish

Hunger Strike

سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران تحریک کے منتظم ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کی کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔

نیٹ پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک اور دیگر تمام مظاہرین کو دہلی پولیس نے جنتر منتر سے  جبراً ہٹا دیا۔ اتوار کی صبح کی گئی اس کارروائی کے دوران دھرنا مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

سوشل میڈیا پر سونم وانگچک کو فلم ’3 ایڈیٹس‘ کے کردار ’فنسکھ وانگڈو‘ سے جوڑنے والے دعوے ایک بار پھر زیرِ بحث ہیں۔ اسی دوران ان کے خاندان کے پرانے کانگریسی تعلقات بھی سامنے آئے ہیں۔ دراصل سونم وانگچک کے والد سونم وانگیال 1972 میں لیہ سے کانگریس کے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور 1975 میں جموں و کشمیر حکومت میں وزیرِ مملکت بھی رہ چکے ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ وانگچک کے احتجاج نے نیٹ (NEET) امتحان اور ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق اہم مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ قرارداد میں سونم وانگچک کی اختراعات، تعلیمی اداروں کی تعمیر اور عوامی خدمات میں ان کی زندگی بھر کی خدمات کو نوجوانوں اور معاشرے کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا۔

شاداب چوہان نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سونم وانگچک کو اپوزیشن کی کتنی حمایت حاصل ہے، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ایک سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم حکومت کے سامنے اپنے دلائل اور تجاویز پیش کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں۔

نیٹ (NEET) امتحان تنازع کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ 18 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک کی صحت مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اس دوران اداکارہ راکھی ساونت نے ان کی جان کو قیمتی قرار دیتے ہوئے جذباتی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود جا کر ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کریں گی۔

جب پرشانت کشور سے پوچھا گیا کہ آپ غیر قانونی طریقہ سے بھوک ہڑتال  کر رہے ہیں اور حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ جگہ احتجاج کے لیے نہیں ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ اس میں غیر قانونی کیا ہے۔

آتشی کے مطابق ہریانہ دہلی کو پانی فراہم نہیں کر رہا ہے۔ ہریانہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہمارے پاس پانی نہیں ہے۔ ہم پانی کہاں سے دیں؟ اس کے جواب میں آتشی کا کہنا ہے کہ ہریانہ حکومت کو ہتھنی  کنڈ بیراج کا پانی دہلی کے لیے کھول دینا چاہیے۔

سونم وانگچک نے بتایا کہ وہ صرف پانی اور نمک کا استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی مہم کا نام کلائمیٹ فاسٹ رکھا ہے۔ سونم وانگچک کی حمایت میں لوگوں کی بڑی تعداد بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔