Bharat Express DD Free Dish

Holy Quran

قرآن پاک کے نسخے کو جلانے کے متعدد واقعات  پیش آنے  کے بعد سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن  کا بیان سامنے آیا ،اور یہ بیان بھی مسلم ممالک کے احتجاج اور دھکمی کے بعد آیا جس میں انہوں نے قرآن جلانے والوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا  کہ جو لوگ اسلام کی مقدس کتاب کی توہین کرتے ہیں وہ سویڈن کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیر خارجہ کا یہ بیان دراصل اس خوف کا نتیجہ ہے جس میں بیشتر مسلم اور عرب ممالک نے ڈنمارک سے ناراضگی کا اظہار کرنے کے ساتھ ہی آگے کے اقدامات پر غور کررہے ہیں ۔جس کا نقصان سیدھے طور پر سویڈن اور ڈنمارک جیسے چھوٹے ممالک کو اٹھانا پڑسکتا ہے۔

Karnataka High Court News: کرناٹک ہائی کورٹ نے عرضی خارج کرتے ہوئے کہا کہ قرآن اور حدیث میں کہا گیا ہے کہ بیوی اور بچے کی دیکھ بھال کرنا شوہرکی ذمہ داری ہے اور خاص طور پر تب جب وہ بے سہارا ہوں۔

بیان میں نفرت کو ہوا دینے اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے اسالیب کے خطرات کے بارے میں انتباہ کی تجدید کی گئی ہے جو صرف انتہاپسندی کے ایجنڈےکی تکمیل کرتی ہیں۔ اور یہ اخلاقی رو سے مسترد امر کو سرکاری تحفظ کے ذریعے نفرت انگیز نظریہ کے مذموم مقاص حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

عراقی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "عراقی حکومت نے سفارتی ذرائع سے سویڈش حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ سویڈش کی سرزمین پر قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے دوبارہ ہونے کی صورت میں سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی ضرورت ہوگی۔

گزشتہ روز پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں شریف نے سوال کیا کہ سویڈن کی پولیس نے قرآن پاک کو جلانے کی اجازت کیوں دی؟ ان کی تقریر ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی تھی۔ جمعہ کو ایک ٹویٹ میں شریف نے ہم وطنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جلوسوں اور احتجاج کے ذریعے سویڈن کو سخت پیغام دیں

سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان نے ڈنمارک میں قرآن شریف نذرآتش کئے جانے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے نفرت اور اشتعال پھیلانے والی ہرچیز کو خارج کرنے پر زور دیا ہے۔

Quran Burning Issue: مسلمانوں کی سب سے مقدس کتاب قرآن شریف ہے۔ اس کو نذر آتش کئے جانے سے متعلق سعودی عرب، قطر، کویت، ایران، پاکستان اور ترکی سمیت بیشتر مسلم ممالک نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔