Bharat Express DD Free Dish

Hizbullah

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے اہلکاروں کو اپنے خلاف یا شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے خلاف کسی بھی براہِ راست یا ابھرتے ہوئے خطرے کو ناکام بنانے کے لیے مکمل کارروائی کی آزادی حاصل ہے۔

اداکار کمل ہاسن نے وجے کے رویے کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جس عاجزی، سادگی اور محبت کے ساتھ انہوں نے استقبال کیا، اس نے ان کا دل جیت لیا۔ کمل ہاسن نے کہا کہ اس ملاقات نے انہیں فخر محسوس کرایا۔

اسرائیلی فوج لبنان پر مسلسل بمباری کر رہی ہے۔ اب تک ان حملوں میں 2,969 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی شامل ہے۔ اسرائیل کے زیادہ تر حملے جنوبی لبنان میں کیے گئے ہیں، جس کے باعث وہاں کے عوام کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

فلسطین اور ایران میں اسرائیل کے ظلم و تشدد کو دیکھتے ہوئے  یمن کے حوثی ایرانی فوج کی مدد کے لیے آگے آ گئے ہیں۔ اس مسلح گروہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملہ کر دیا ہے۔ یہ حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر دوسرا سب سے بڑا حملہ تھا۔

لبنان اور شام 1948 سے اسرائیل کے ساتھ تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ دمشق کی جانب سے بھی اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بات کو ’’قبل از وقت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر دستخط ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب آئی ڈی ایف لبنان کے مختلف حصوں پر تیزی سے فضائی حملے کر رہا ہے۔

لبنان کے وزیر داخلہ بسام مولوی نے اسرائیل کی طرف سے وسیع پیمانے پر لبنان میں ہونے والے حملوں کے بارے میں کہا ہے کہ توقع ہے کہ لبنان کا حشر غزہ جیسا نہیں ہوگا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پورا لبنان جنگ کی لپیٹ میں ہے اور شہریوں کو مل جل کراس مشکل سے نکلنا چاہیے۔

لبنان میں حزب اللہ کے زیر استعمال سینکڑوں پیجرز کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے اپنے حملے میں تقریباً ایک ہی وقت میں اڑا دیا جس کی وجہ سے اب تک 9 لوگوں کی جان گئی ہے اور قریب 3ہزار لوگ زخمی ہوگئے ہیں ، اس حملے میں ایرانی سفیر کی ایک آنکھ بھی چلی گئی ہے۔

حزب اللہ کے اس حملے کے بعد اسرائیل نے اپنے شمالی سرحدی علاقے میں کسی جانی نقصان کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا جہاں سے زیادہ تر کمیونٹیز کا انخلا کر لیا گیا تھا۔ لیکن اسرائیلی حکام نے فوری طور پر کہا کہ اس نے جوابی کارروائی میں جنوبی لبنان میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے بھی حزب اللہ کو اپنی پوری صلاحیتوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دکھایا ہے اوراگر جنگ ہوئی تو لبنان کو دوسرے غزہ میں تبدیل کردیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے لبنان پر حملے کے لئے ایک نئے منصوبے کو منظوری دی ہے۔