Bharat Express DD Free Dish

Himachal Pradesh

ہماچل پردیش کے چیف وائلڈ لائف وارڈن امیتابھ گوتم نے کہا کہ اس شناخت سے بین الاقوامی تحقیقی تعاون میں اضافہ ہوگا، ذمہ دار ایکو ٹورزم کو فروغ ملے گا اور ہمالیہ میں ماحولیاتی نظام کی لچک بڑھانے کی کوششیں مضبوط ہوں گی۔

ہماچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کئی علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے، جن سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ دوسری جانب پنجاب میں شدید بارش نے نشیبی علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا کر دی ہے۔

وزیر اعظم کا یہ دورہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے کاموں کی براہِ راست نگرانی کے مقصد سے کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو جلد از جلد سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

جائے وقوعہ پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ فوج، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں کام میں مصروف ہیں۔ ایک ٹاٹا سومو گاڑی کے ملبے میں دبے ہونے کی اطلاع ہے جس کا کچھ حصہ نکال لیا گیا ہے۔ گاڑی میں سوار افراد کی تلاش جاری ہے۔

گورنر شکلا نے وزیر اعظم کو ریاست گیر انسداد منشیات مہم کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جسے پنچایت سطح تک نافذ کیا جا رہا ہے۔

موسلا دھار بارش پیر کی رات تقریباً 11 بجے شروع ہوئی اور صبح 4 بجے تک شدت اختیار کر گئی، جس سے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک منڈی کا زونل اسپتال بتایا جا رہا ہے، جہاں نالے بھر جانے کے بعد احاطے میں پانی بھر گیا۔

دریں اثنا امت شاہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 2023 میں آفات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ہماچل پردیش کو 2006.40 کروڑ روپے کی منظوری بھی دی ہے۔

کلّو اور منڈی میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے کچھ نظام عارضی طور پر بحال کیے گئے ہیں، تاہم کئی دور دراز علاقوں تک رسائی اب بھی ممکن نہیں۔ حکام نے مقامی باشندوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم کی مزید بگڑتی صورتحال کے لیے ہوشیار رہیں۔

آئی ایم ڈی نے خبردار کیا ہے کہ 7 جولائی تک شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ، پانی جمع ہونے اور دیگر خطرات کا امکان ہے۔ حکام نے لوگوں سے محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ہماچل پردیش میں دھرم شالہ کے قریب بادل پھٹنے کی واردات ہوئی ہے۔ یہ حادثہ لنگٹا پاور پراجیکٹ کے قریب پیش آیا جس کے باعث 20 مزدور پانی میں بہہ گئے اور 2 جاں بحق ہوگئے۔ دھرم شالا کے مانونی کھڈ میں تقریباً 15 سے 20 مزدور پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔