Bharat Express DD Free Dish

High court

عبدالرشید شیخ اس وقت تہاڑ جیل میں این آئی اے کے درج دہشت گردی فنڈنگ کیس میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ اس سے قبل انہیں لوک سبھا اجلاس میں شرکت کے لیے کسٹڈی پیرول دی جا چکی ہے، جبکہ ان کی مستقل ضمانت کی درخواست ابھی زیر التوا ہے۔

عدالت نے علاقے کی خستہ حال صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت کے مطابق سڑک اتنی تنگ ہو چکی ہے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور اسکول بس جیسی ضروری خدمات کی گاڑیاں بھی آسانی سے گزر نہیں پاتیں، جس کی وجہ سے اکثر ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں نابالغ بچی کی دوبارہ گواہی کرانے سے انکار کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس کے ساتھ ہی ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ملک کے متعدد ریٹائرڈ ججوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف حالیہ منظم مہم کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ مہم اُس وقت سامنے آئی جب روہنگیا مہاجرین سے متعلق ایک عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے کیے گئے ایک قانونی سوال کو غلط رنگ دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق ججوں نے کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر عدلیہ کو کمزور کرنے اور ججوں کی نیت پر حملہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

منتظمہ کمیٹی نے عدالت کے فیصلے پر خوشی اوراطمینان کا اظہارکیا ہے۔ اسی ضمن میں کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے بھی خوشی کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت سے انصاف ملا ہے۔ ہم نے اس لڑائی کو سڑک پرنہیں بلکہ عدالت میں جاکرلڑی، ہمیں عدالت سے کامیابی ملی ہے۔ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اورہمیں امید ہے کہ آگے بھی عدالت سے انصاف ملتا رہے گا۔

عدالت نے ریاستی حکومت، چیف سکریٹری، ضلع کلکٹر، تحصیلدار اور نائب تحصیلدار سمیت تمام مدعا علیہان کو دو ہفتے کے اندر جواب پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سال 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین دھماکے میں ہائی کورٹ سے بری کئے گئے ملزمین کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ 12 مسلم مرد 18 سال سے جیل میں ہیں، وہ بھی اس جرم کے لئے، جوانھوں نے کیا ہی نہیں۔ ان کی سنہری زندگی جیل میں ضائع ہوگئی۔

نیرو مودی نے تقریباً 6,498 کروڑ روپے کا دھوکہ کیا، جب کہ چوکسی نے مبینہ طور پر 7,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض دہندگان کو دھوکہ دیا۔

یہ عدالتوں کا فرض ہے کہ وہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں، چاہے جج خود کسی نقطہ نظر سے متفق کیوں نہ ہوں۔ بعض اوقات ہم ججوں کو کوئی تحریری یا زبانی رائے پسند نہیں آسکتی ہے، لیکن بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار کو تنخواہ سمیت تمام فوائد ملیں گے۔ اگر درخواست گزار شفٹ میں ڈیوٹی کے دوران نہ سوتا تو یہ غلط  ہوتا ۔