Bharat Express DD Free Dish

High court

یہ ریمارکس جسٹس آر نٹراج نے عصمت دری کے ایک مقدمے میں 23 سالہ ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانونی نظام میں سزا کا خوف پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا،

نئی تقرریوں میں سب سے زیادہ توجہ سینئر ایڈووکیٹ وی موہنا کی تقرری نے حاصل کی ہے۔ وہ بار سے براہِ راست سپریم کورٹ کی جج مقرر ہونے والی گیارہویں شخصیت بن گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کے بعد وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی دوسری خاتون بھی ہیں۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جے پرکاش تیواری کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کی وجہ سے متعدد عملی دشواریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر صارف کے پاس موبائل فون موجود نہیں ہوتا،

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے ملزم کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ اس کیس کی سماعت جسٹس راجیو لوچن شکلا کی سنگل بینچ نے کی، جہاں دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سنے گئے۔

عبدالرشید شیخ اس وقت تہاڑ جیل میں این آئی اے کے درج دہشت گردی فنڈنگ کیس میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ اس سے قبل انہیں لوک سبھا اجلاس میں شرکت کے لیے کسٹڈی پیرول دی جا چکی ہے، جبکہ ان کی مستقل ضمانت کی درخواست ابھی زیر التوا ہے۔

عدالت نے علاقے کی خستہ حال صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت کے مطابق سڑک اتنی تنگ ہو چکی ہے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور اسکول بس جیسی ضروری خدمات کی گاڑیاں بھی آسانی سے گزر نہیں پاتیں، جس کی وجہ سے اکثر ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں نابالغ بچی کی دوبارہ گواہی کرانے سے انکار کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس کے ساتھ ہی ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ملک کے متعدد ریٹائرڈ ججوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف حالیہ منظم مہم کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ مہم اُس وقت سامنے آئی جب روہنگیا مہاجرین سے متعلق ایک عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے کیے گئے ایک قانونی سوال کو غلط رنگ دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق ججوں نے کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر عدلیہ کو کمزور کرنے اور ججوں کی نیت پر حملہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

منتظمہ کمیٹی نے عدالت کے فیصلے پر خوشی اوراطمینان کا اظہارکیا ہے۔ اسی ضمن میں کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے بھی خوشی کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت سے انصاف ملا ہے۔ ہم نے اس لڑائی کو سڑک پرنہیں بلکہ عدالت میں جاکرلڑی، ہمیں عدالت سے کامیابی ملی ہے۔ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اورہمیں امید ہے کہ آگے بھی عدالت سے انصاف ملتا رہے گا۔

عدالت نے ریاستی حکومت، چیف سکریٹری، ضلع کلکٹر، تحصیلدار اور نائب تحصیلدار سمیت تمام مدعا علیہان کو دو ہفتے کے اندر جواب پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔