نئی دہلی :دہلی کے شالیمار باغ علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑی کارروائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے 143 مکانات کو خالی کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے رہائشیوں کو 30 مئی تک کا وقت دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد ان غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزر چلایا جائے گا۔یہ فیصلہ جسٹس پرتھیبا سنگھ اور جسٹس مدھوجین کی بنچ نے سماعت کے دوران سنایا۔ عدالت نے مقامی رہائشیوں اور مختلف سرکاری محکموں کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد پایا کہ مکان مالکان اپنی تعمیرات کے حق میں کوئی بھی معتبر دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہے۔دوسری جانب دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر سرکاری محکموں نے عدالت میں ثبوت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام مکانات سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ان عمارتوں کو غیر قانونی طریقے سے پانچ سے 6 منزل تک تعمیر کیا گیا ہے اور تقریباً 24 میٹر زمین پر قبضہ کیا گیا ہے۔
عدالت نے علاقے کی خستہ حال صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ عدالت کے مطابق سڑک اتنی تنگ ہو چکی ہے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور اسکول بس جیسی ضروری خدمات کی گاڑیاں بھی آسانی سے گزر نہیں پاتیں، جس کی وجہ سے اکثر ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حالات کو بہتر بنانے اور دہلی ماسٹر پلان 2021 پر عملدرآمد کے لیے سڑک کو 30 میٹر تک چوڑا کرنا ضروری ہے، اسی لیے غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
عدالت کے حکم کے مطابق یہ غیر قانونی تعمیرات میکس روڈ شالیمار ًباغ گاؤں (حید پور گاؤں) کی سڑک نمبر 320 پر واقع ہیں، جو رنگ روڈ سے جڑی ہوئی ہے اور ٹریفک کے لحاظ سے نہایت اہم راستہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ضلع انتظامیہ کے سروے میں 670 میٹر کے علاقے میں 143 مکانات کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں 157 خاندان رہائش پذیر ہیں۔ ان مکانات میں تقریباً 750 افراد مقیم ہیں۔ سماعت کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ بیشتر عمارتیں پانچ سے چھ منزلہ ہیں اور تمام تعمیرات غیر قانونی طور پر سرکاری زمین پر قائم کی گئی ہیں۔عدالت نے واضح کیا کہ شہری سہولیات کی بہتری اور ٹریفک مسائل کے حل کے لیے یہ کارروائی ضروری ہے۔ اس فیصلے کے بعد علاقے میں رہنے والے افراد میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ انتظامیہ نے جلد کارروائی کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



