Bharat Express DD Free Dish

Haldwani

ہلدوانی کا ’شدھی کرن‘ معاملہ اب سیاسی بیان بازی سے آگے بڑھ کر قانونی تحقیقات کا موضوع بن چکا ہے۔ ایک طرف کانگریس نے اس واقعے کو ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور درج فہرست ذات کے فرد کی توہین سے جوڑا ہے، جبکہ دوسری جانب اس واقعے میں مبینہ طور پر شامل افراد نے بھی راہل گاندھی کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔ پولیس کی تحقیقات میں اب یہ واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ رام لیلا میدان میں 10 اگست کو حقیقت میں کیا ہوا تھا۔

کانگریس صدر نے جے پی نڈا سے مطالبہ کیا کہ وہ اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ کو ہدایت دیں کہ ہلدوانی میں مبینہ ’شدھی کرن‘ کے واقعے میں ملوث تنظیم اور افراد کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔ کھڑگے نے خط میں یاد دلایا کہ انہوں نے 13 اگست 2026 کو راجیہ سبھا میں انتہائی دکھ اور تکلیف کے ساتھ 8 اگست کو ہلدوانی میں منعقدہ اپنی عوامی ریلی کے بعد پیش آنے والے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔

شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس کے صدر گریش پانڈے اور پنڈت موہن شاستری نے کہا کہ ریلی کے بعد رام لیلا میدان میں شدھی کرن ہَون کیا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ ریلی کے دوران مذہبی نعروں اور تبصروں سے میدان کی پاکیزگی متاثر ہوئی ہے۔

کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ کانگریس شروع سے کہتی رہی ہے کہ ملک میں دلتوں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت سے چار ہفتوں کے اندر مفصل جواب مانگا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وقف املاک سے متعلق قوانین کی پاسداری ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔

ہائی کورٹ میں دفاعی وکلاء سی کے شرما، مجاہد احمد، منیش کمارپانڈے اور نتن تیواری نے ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت پر رہائی کی عرضداشت داخل کی ہے اور دوران سماعت انہوں نے عدالت کو بتایاکہ کہ تفتیشی ایجنسی نے ملزمین کے خلاف متعینہ مدت میں چارج شیٹ داخل نہیں کی اس کے باوجود خصوصی سیشن عدالت نے تفتیشی ایجنسی کو مزید وقت دے دیا تاکہ وہ چارج شیٹ داخل کرسکے جو غیر قانونی ہے۔

مینسپل کارپوریشن کے مطابق تشدد کے مبینہ مرکزی ملزم عبدالملک نے مبینہ طور پر سرکاری زمین پر غیر قانونی مدرسہ اور نماز کی جگہ تعمیر کر رکھی تھی، جب انتظامیہ کی ٹیم اسے گرانے پہنچی تو وہاں پر تشدد پھوٹ پڑا۔

ہلدوانی سٹی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہربنس سنگھ نے بتایا کہ اس واقعہ میں چھ لوگوں  کی موت ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحافی سمیت سات زخمی شہر کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

نینی تال کی ڈی ایم وندنا سنگھ نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ہلدوانی میں گزشتہ 15-20 دنوں سے مختلف مقامات پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔

ڈی ایم نے کہا کہ یہ تشدد فرقہ وارانہ نہیں تھا ، اس کو کسی بھی طرح سے فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے ، اس کو کسی مذہب یا ذات سے نہیں جوڑا جانا چاہیے ۔ اس کا کسی ایک گروپ ،جماعت یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ، بلکہ یہ پوری طرح سے سیکورٹی انتظامیہ کو چیلنج کرنے کی کوشش تھی۔