Bharat Express DD Free Dish

G7

فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بطور مہمان رکن شرکت کی اور عالمی لیڈروں کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی امن، بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل اور بحری سلامتی جیسے اہم موضوعات پر بھارت کا مؤقف مضبوطی سے پیش کیا۔

وزیر اعظم مودی نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر ٹرمپ کی تعریف کی ہے،  اس کے ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور بحری کارکنوں کی حفاظت پر زور دیا ہے۔

پی ایم مودی نے کانفرنس سے وقت نکالا اور جنوبی کوریا، میکسیکو، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے پہلی بار میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام پارڈو سے بھی ملاقات کی۔

اگرچہ پی ایم مودی کے پروگرام کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے، تاہم توقع ہے کہ وہ 17 جون کو G7 آؤٹ ریچ سیشن کے لیے بروقت البرٹا پہنچ جائیں گے۔

کینیڈا کے سابق رکن پارلیمنٹ چندرا آریہ نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی جی 7 سربراہی اجلاس کے لیے کینیڈا آتے ہیں تو ان کا استقبال کرتے ہوئے ہمیں فخر محسوس ہوگا۔

G7 سربراہی اجلاس نے عالمی سطح پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے غلبہ کو تسلیم کیا ہے اور 2019 کے بعد سے ہر سربراہی اجلاس میں مدعو کیے گئے ہیں۔

جاپان کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جی سیون چوٹی کانفرنس میں شرکت سےجی سیون اورجی 20عمل کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوگی، خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے یہ موقع اہم ہوگا۔

پی ایم مودی نے ہیروشیما دورے کے دوران امریکہ،فرانس ،جاپان،برطانیہ، انڈونیشیا،یوکرین، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے سربراہان مملکت سے ملاقات کے علاوہ یواین جنرل سکریٹری سے بھی ملاقات کی۔

ہم اپنی مشترکہ کوششوں کے ذریعے مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ایک تعمیری ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم اپنے وژن کو ایک عملی جہت دے رہے ہیں ۔ا سٹریٹجک ٹیکنالوجیز، قابل اعتماد سپلائی چین، ہیلتھ سکیورٹی، میری ٹائم سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور تعمیری شراکت داری بڑھ رہی ہے۔پی ایم مودی

ارندم باغچی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ تیسرا خوراک کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے خوراک کے ضیاع کو روکنا تھا