Bharat Express DD Free Dish

FIFA World Cup 2026

انگلینڈ اور گھانا کے درمیان میچ بغیر کسی گول کے برابر رہا، جس کے ساتھ ہی انگلینڈ کی مسابقتی مقابلوں میں مسلسل 12 فتوحات کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اکتوبر 2024 میں یونان کے خلاف میچ کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب انگلینڈ کوئی فتح حاصل نہ کر سکا۔

کرسٹیانو رونالڈو نے ازبکستان کے خلاف گول کرکے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے دو دہائیوں پر محیط منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔ رونالڈو نے میچ شروع ہونے کے چھ منٹ سے بھی کم وقت میں گول کرکے پرتگال کو برتری دلا دی۔ بین الاقوامی فٹبال میں 144 گول کے ساتھ سب سے زیادہ بین الاقوامی گول کرنے کا ریکارڈ بھی انہیں کے نام ہے۔

میسی نے ایک اور منفرد اعزاز بھی حاصل کیا۔ وہ فرانس کے جسٹ فونٹین اور برازیل کے جائرزینھو کے بعد مسلسل چھ ورلڈ کپ میچوں میں گول کرنے والے دنیا کے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

اس فتح کے ساتھ مصر نے نہ صرف ورلڈ کپ 2026 میں اپنی مہم کو مضبوط کیا بلکہ عالمی کپ کی تاریخ میں اپنی پہلی کامیابی بھی درج کروا دی۔ محمد صلاح کی قیادت میں مصری ٹیم نے ثابت کر دیا کہ وہ اس ٹورنامنٹ میں بڑے حریفوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

میچ کا اہم موڑ 70ویں منٹ میں آیا جب بیلجیم کے ڈیفنڈر ناتھن نگوئے نے غلط بیک پاس دے دیا۔ بعد ازاں ایرانی کھلاڑی کو روکنے کے لیے فاؤل کرنے پر ریفری نے انہیں سیدھا ریڈ کارڈ دکھا دیا، جس کے باعث بیلجیم کو باقی میچ 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔ایک کھلاڑی کم ہونے کے باوجود بیلجیم نے ہمت نہیں ہاری۔

یہ پہلا موقع ہے کہ جاپان نے فیفا ورلڈ کپ کے کسی ایک میچ میں چار گول کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جاپان فیفا ورلڈ کپ میں ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن کی پہلی ٹیم بن گئی ہے جس نے ایک ہی میچ میں چار گول اسکور کیے۔ یہ کامیابی ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی ایشیائی ٹیم کی سب سے بڑی فتح بھی قرار دی جا رہی ہے۔

اسماعیل صیباری کی کامیابی کی کہانی بھی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ 2001 میں اسپین میں پیدا ہونے والے صیباری کے والدین شمالی مراکش سے تعلق رکھتے تھے اور روزگار کی تلاش میں اسپین منتقل ہوئے تھے۔اسپین میں تقریباً 18 برس گزارنے کے بعد 2008 کے عالمی معاشی بحران نے ان کے خاندان کو شدید متاثر کیا۔

میچ کے اضافی وقت میں جوناتھن ڈیوڈ نے ایک اور گول کرکے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی اور کینیڈا کی برتری 6-0 تک پہنچا دی۔ قطر کی ٹیم پورے مقابلے کے دوران کینیڈین دفاع کو توڑنے میں ناکام رہی اور کوئی گول نہ کر سکی۔اس شاندار کامیابی کے بعد کینیڈا کے چار پوائنٹس ہو گئے ہیں ۔

میچ کے بعد بیلنگھم نے کہا کہ ایک بار پھر اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا اگلا ہدف انگلینڈ کے لیے 50 بین الاقوامی میچ مکمل کرنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میری ذمہ داری ہے کہ جب میں میدان میں اتروں تو اپنی ٹیم اور اپنے ملک کے لیے سو فیصد دوں۔

ایران کے اسٹرائیکر مہدی طارمی نے موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کھلاڑیوں اور معاون عملے کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال سے تھک چکے ہیں۔ یہ بہت خراب ہے اور اس کا براہ راست اثر ہماری ٹیم کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔