Bharat Express DD Free Dish

FIFA World Cup 2026

دفاعی چیمپئن ارجنٹینا 152 گولوں کے ساتھ تیسرے، فرانس 136 گولوں کے ساتھ چوتھے اور اٹلی 128 گولوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود ہے۔میچ کے آغاز سے ہی جرمن ٹیم نے جارحانہ انداز اختیار کیا اور صرف چھٹے منٹ میں پہلا گول کرکے اپنے عزائم واضح کر دیے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوراکاؤ نے سب کو حیران کرتے ہوئے جلد ہی اسکور 1-1 سے برابر کر دیا۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل سیکیورٹی کے حوالے سے بڑے اقدامات زیرِ غور ہیں۔ کھلاڑیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بلٹ پروف ویسٹ جیسے حفاظتی آلات پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ اسٹیڈیم میں آنے والے شائقین کے لیے بھی سخت سیکیورٹی ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔

فٹبال کی دنیا کے دو عظیم ترین ستارے لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو بھی ورلڈ کپ فائنل میں گول کرنے کے معاملے میں کائلیان ایمباپے سے پیچھے ہیں۔ فرانس کے اس نوجوان اسٹار نے صرف دو فیفا ورلڈ کپ فائنلز میں مجموعی طور پر چار گول کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیم کو صرف میچ والے دن ہی امریکی سرزمین میں داخلے کی اجازت ہوگی اور میچ ختم ہوتے ہی فوری طور پر ملک چھوڑنا ہوگا، جس سے کوچنگ اسٹاف اور انتظامیہ کے لیے بڑے لاجسٹک مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 صرف 48 ٹیموں کی شرکت اور تین ممالک — امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو — کی مشترکہ میزبانی کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ نئے قوانین کے باعث بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت سیاسی تناؤ کے سبب مسلسل خبروں میں ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں مہدی تاج کو مبینہ طور پر کینیڈا میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ ان کے مبینہ تعلقات اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور سے بتائے گئے، جسے کینیڈا نے 2024 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

شاجی پربھاکرن کے تازہ بیان کو بھارتی فٹبال شائقین کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اب امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی نشریات بغیر کسی رکاوٹ کے ملک بھر میں دستیاب ہوں گی۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی فٹبال ٹورنامنٹ کو عوامی اور مفت پلیٹ فارمز، خصوصاً دوردرشن اور ڈی ڈی اسپورٹس پر نشر کیا جائے تاکہ ملک کے تمام شائقین اس سے استفادہ کر سکیں۔ درخواست گزار کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کے کروڑوں فٹبال شائقین دنیا کے سب سے بڑے کھیل مقابلوں میں سے ایک دیکھنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ تہران نے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے 10 شرائط پیش کی ہیں اور قومی ٹیم کے ساتھ مناسب سلوک کی ضمانت طلب کی ہے۔