Bharat Express DD Free Dish

Entertainment Industry

اداکاری کے ساتھ ساتھ مینا کماری ایک بہترین شاعرہ بھی تھیں۔ وہ اردو میں شاعری کرتی تھیں اور ان کے اشعار میں تنہائی، محبت، درد اور زندگی کے مختلف تجربات کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ سفید رنگ سے ان کی محبت ان کی شاعرانہ اور حساس شخصیت کی بھی عکاسی کرتی تھی، اسی لیے وہ اکثر تقریبات اور عوامی مواقع پر سفید ساڑھی میں دکھائی دیتی تھیں۔ آج بھی ان کی سفید ساڑھی والی تصاویر مداحوں میں بے حد مقبول ہیں۔اپنی غیر معمولی اداکاری کے اعتراف میں مینا کماری کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

تعلیم کے دوران انہیں ایک ٹی وی سیریل میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ ابتدا میں ان کے اہلِ خانہ اس فیصلے کے حق میں نہیں تھے اور چاہتے تھے کہ وہ پہلے اپنی تعلیم مکمل کریں، لیکن مرنال نے انہیں قائل کیا اور اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔ انہوں نے 2012 میں ٹی وی سیریل "مجھ سے کچھ کہتی... یہ خاموشیاں" سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جس کے بعد وہ "ارجن" میں بھی نظر آئیں۔ انہیں حقیقی شہرت زی ٹی وی کے مقبول ڈرامے "کمکم بھاگیہ" میں بلبل اروڑا کے کردار سے ملی،

سیرت کپور نے موجودہ دور میں فنکاروں کو درپیش چیلنجز پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر اداکار کی خواہش ہونی چاہیے کہ لوگ اسے اس کے اچھے کام کی وجہ سے یاد رکھیں، نہ کہ صرف عارضی شہرت یا سوشل میڈیا کی مقبولیت کی بنیاد پر۔انہوں نے کہا، "مقبولیت اور خبروں میں رہنا وقتی ہو سکتا ہے، "

اپنے مستقبل کے خواب کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیوتِرمئی نائک نے کہا، "میں مستقبل میں اریجیت سنگھ اور شریا گھوشال کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں۔ ان دونوں عظیم فنکاروں کے ساتھ گانا میرے لیے کسی خواب کے پورا ہونے سے کم نہیں ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن میرا یہ خواب ضرور حقیقت بنے گا۔"اریجیت سنگھ کا شمار بھارت کے مقبول ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے۔

سانوی تلوار نے ٹی وی شو ’’یہ کہاں آ گئے ہم‘‘ میں اداکار کرن کندرا کے ساتھ کام کیا تھا۔ اسی دوران انہوں نے کرن کندرا پر مبینہ طور پر نامناسب رویے کے الزامات عائد کیے تھے۔ سانوی کا دعویٰ تھا کہ شوٹنگ کے دوران کرن کندرا نے ان کی رضامندی کے بغیر انہیں بوسہ دیا اور تھپڑ بھی مارا۔ اس وقت اس معاملے میں شو کی پروڈیوسر ایکتا کپور نے مداخلت کی تھی،

فلم میں خوشالی کمار کے ساتھ سینئر اداکار مہیش مانجریکر اور معروف اداکار پیوش مشرا بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔ تجربہ کار اور باصلاحیت فنکاروں کے ساتھ کام کرنا خوشالی کے سوچے سمجھے فلمی انتخاب کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے کیریئر میں معیاری سینما کو ترجیح دے رہی ہیں۔خوشالی کمار ایسے وقت میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کر رہی ہیں،

۔ادھر شاہ رخ خان کی ایکشن فلم "کنگ" 24 دسمبر کو سینما گھروں کی زینت بنے گی۔ اس فلم میں شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی بیٹی سہانا خان بھی نظر آئیں گی، جن کی یہ تھیٹر میں پہلی فلم ہوگی۔ فلم میں دیپیکا پڈوکون، ابھیشیک بچن اور جیکی شروف بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری سدھارتھ آنند نے کی ہے۔

سنجے مشرا نے بھاسکر سنہا کے کردار کو نہایت گہرائی اور حساسیت کے ساتھ نبھایا، جسے ناقدین اور شائقین دونوں نے بے حد پسند کیا۔ فلم کو اس بات پر بھی سراہا گیا کہ اس نے ایک سنگین سماجی مسئلے کو غیر ضروری جذباتیت کے بغیر حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا۔نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد "بھکشک" کی کامیابیوں میں ایک اور اہم سنگ میل کا اضافہ ہو گیا ہے۔

ادا شرما نے کہا کہ حقیقی کہانیوں پر مبنی فلمیں بناتے وقت سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہوتی ہے کہ کرداروں کے ساتھ مکمل حساسیت برتی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناظرین کو متاثر کرنے کے لیے کسی کے دکھ درد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مناسب نہیں، بلکہ اصل حقیقت کو اسی انداز میں دکھانا چاہیے جس طرح وہ پیش آئی ہو۔

اپنی پوسٹ میں مگدھا نے لکھا، "مراٹھی فلم 'فریم' کا حصہ بننا میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے۔ یہ فلم بہت خوبصورتی اور باریک بینی سے بنائی گئی ہے۔ میرے پسندیدہ ناگ راج منجولے اور امیے کو بہت سارا پیار۔ اگرچہ میرا کردار چھوٹا تھا، لیکن آپ سب نے مجھے گھر جیسا احساس دلایا۔