MT Aqua Titan: مغربی ایشیا کشیدگی کے درمیان توانائی سپلائی پر خدشات، روس سے تیل لانے والا ٹینکر ہندوستان پہنچ گیا، منگلورو ساحل کے قریب لنگر انداز
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے بعد ہندوستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے بندرگاہی سہولتوں میں نرمی، متبادل سپلائی لائنز اور مسلسل نگرانی جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
LPG continues to remain a concern: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان میں خام تیل کی فراہمی معمول پر، ایل پی جی بدستور تشویش کا باعث: حکومت
حکومت نے تسلیم کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر ہندوستان کی ایل پی جی سپلائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ مجموعی طور پر حکومت کا کہنا ہے کہ جہاں خام تیل اور دیگر ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے، وہیں ایل پی جی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو کم سے کم دشواری کا سامنا ہو۔
No Shortage of Gas in the Country: ملک میں گیس کی کوئی کمی نہیں، سی این جی اور پی این جی صارفین کو بلا تعطل سپلائی جاری: مرکزی حکومت
وزارت نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں گیس بکنگ نہ کریں، آن لائن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بکنگ کریں اور بلا ضرورت ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت گھریلو صارفین کے مفادات کو ترجیح دیتی رہے گی اور گھروں کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے اہم شعبوں کے لیے ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
Crude oil sufficient in country: ’’ملک میں خام تیل کی کوئی کمی نہیں، معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں پٹرول پمپ‘‘ : وزارت پیٹرولیم کی یقین دہانی
وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس میں جوائنٹ سکریٹری (مارکیٹنگ و آئل ریفائنری) سجاتا شرما نے اس حوالے سے کہا کہ خام تیل وافر مقدار میں دستیاب ہے اور تمام ریفائنریاں اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’خام تیل کافی مقدار میں موجود ہے۔ تمام ریفائنریاں اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ہمارے پٹرول پمپ معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور کہیں بھی ایندھن ختم ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘‘
Energy Security Compromised: ’’پارلیمنٹ میں ایل پی جی کی قلت کے مسئلے پر بیان دینے کی اجازت نہیں دی گئی‘‘ ایل پی جی کی کمی پر راہل گاندھی کا اظہار تشویش
راہل گاندھی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایل پی جی کا مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کے مفادات اور توانائی کی ضروریات محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے کیونکہ بھارت کی توانائی سلامتی متاثر ہو چکی ہے۔
Self-reliant India: کوچی ریفائنری میں نئے صنعتی منصوبے کا سنگ بنیاد، وزیراعظم نے کہا خود کفیل بھارت کے لیے پیٹرولیم شعبے کی توسیع ضروری
وزیراعظم کے مطابق آنے والے وقت میں یہ پلانٹ پیکجنگ، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل اور طبی آلات سمیت کئی صنعتوں کو خام مال فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تیزی سے مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔
Qatar’s LNG supply to GAIL suspended: ایران جنگ کے باعث گیل کو قطر سے ایل این جی سپلائی بند، بھارت میں گیس فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ
مارکیٹ کو سب سے زیادہ تشویش آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا اہم سمندری راستہ ہے۔ اسی راستے سے مشرق وسطی سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس دنیا بھر کو سپلائی کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی توانائی بازار مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔
India’s oil stocks: مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باوجود بھارت کے پاس 25 دن کا خام اور ریفائنڈ تیل ذخیرہ موجود، متبادل درآمدی ذرائع کی تلاش جاری
پیر کے روز مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے مغربی ایشیا کی صورتحال کے تناظر میں خام تیل، ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا جائزہ لینے کے لیے وزارت اور سرکاری کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ کی۔
Energy Diplomacy in India: وزیراعظم نریندرمودی کے دور میں توانائی سفارت کاری، بھارت عالمی تیل نظام کو نئی شکل دے رہا ہے
بھارت اب افریقی ممالک اور جنوبی ایشیائی پڑوسیوں میں توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ’نیبرہڈ فرسٹ‘ اور ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسیوں کے تحت بھارت توانائی، بنیادی ڈھانچے اور تجارت کے ذریعے خطے میں اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔





