Rajnath Singh Holds Emergency Meeting: تیل کے تحفظ کے لیے پی ایم مودی کی اپیل کے بعد راج ناتھ سنگھ نے کی ہنگامی میٹنگ، کہا-’’ضروری اشیا کی کوئی کمی نہیں، غیر ضروری خریداری سے کریں گریز‘‘
وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ضروری اشیا کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں، صبر کا مظاہرہ کریں اور گھبراہٹ یا غیر ضروری خریداری سے بچیں۔ حکومت کے مطابق ملک میں ضروری اشیا کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
Strait of Hormuz: ’’آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول، بغیر اجازت کوئی جہاز گزر نہیں سکتا‘‘ ایران نے اسٹریٹجک گزرگاہ پر نگرانی مزید بڑھادی
رپورٹس کے مطابق، 28 فروری کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ خاص طور پر ان جہازوں کے لیے پابندیاں بڑھائی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اقدامات ایران پر ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
Historic Milestone: وزیراعظم مودی نے کلپکم میں فاسٹ بریڈر نیوکلیئر ری ایکٹر میں کامیابی حاصل کرنے پر سائنسدانوں کو دی مبارکباد
وزیراعظم نے اسے ’’تاریخی سنگِ میل‘‘ قرار دیا۔ مکمل طور پر دیسی ٹیکنالوجی سے تیار ری ایکٹر بھارت کی توانائی خودکفالت کو مضبوط کرے گا۔ یہ منفرد صلاحیت بھارت کو محدود یورینیم وسائل کے باوجود زیادہ توانائی حاصل کرنے میں مدد دے گی اور صاف توانائی کے میدان میں ملک کو خودکفیل بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ثابت ہوگی۔
NSA Doval meets UAE President: اجیت ڈووال کی ابو ظہبی میں شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات، جامع اسٹریٹجک شراکت داری اور خطے کی سکیورٹی پر تبادلۂ خیال
بھارتی سفارت خانے کے مطابق، اجیت ڈووال نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک خواہشات بھی پیش کیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے، علاقائی سکیورٹی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
Green Sanvi transited the Strait of Hormuz: بھارت کا ایل پی جی ٹینکر ’’گرین سانوی‘‘ آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرا، مغربی ایشیا کشیدگی کے باوجود توانائی سپلائی برقرار رکھنے کی کوششیں جاری
’’گرین سانوی‘‘ کی کامیاب روانگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل حالات کے باوجود بھارت اپنی توانائی ضروریات کو پورا کرنے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سفارتی اور سکیورٹی اقدامات کر رہا ہے۔
Global economic stability is at risk: ایران کے حملوں سے عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق، یورپی کمیشن کی صدر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر کیا تشویش کا اظہار
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی تجارت، مہنگائی اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔ اس تناظر میں عالمی رہنماؤں کی سفارتی سرگرمیاں اس بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
Missile attack on fuel tanker: قطر انرجی کی تصدیق، ایندھن بردار جہاز پر راس لفان کے قریب میزائل حملہ، عملہ محفوظ
یوکے میریٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق انہیں قطر کے علاقے راس لفان سے تقریباً 17 ناٹیکل میل شمال میں اس واقعے کی اطلاع ملی۔ جہاز کے سکیورٹی افسر نے بتایا کہ نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے جہاز کے بائیں حصے کو نشانہ بنایا، جس سے پانی کی سطح سے اوپر ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
Hydrocarbons Summit 2026: پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ہائیڈروکاربن سمٹ 2026، توانائی سلامتی پرغور، درآمدی انحصار کم کرنے اور ملکی صلاحیت بڑھانے پر زور
سمٹ میں عالمی توانائی بحران کے تناظر میں بھارت کی توانائی سلامتی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور درآمدی انحصار میں کمی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Japan Oil Reserves: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سےجاپان اپنے سرکاری ذخیرے سے ریلیز کرے گا 30 دن کا ریزرو آئل
جاپان دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں سرکاری اور نجی ذخائر ملا کر تقریباً 254 دن کی کھپت کے برابر تیل موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک اپنی 90 فیصد سے زیادہ خام تیل کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ جنگی صورتحال میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
PM Modi speaks to US President: وزیراعظم مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر اہم بات چیت، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جلد ہی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔





