Bharat Express DD Free Dish

Energy security

وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ضروری اشیا کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں، صبر کا مظاہرہ کریں اور گھبراہٹ یا غیر ضروری خریداری سے بچیں۔ حکومت کے مطابق ملک میں ضروری اشیا کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 28 فروری کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ خاص طور پر ان جہازوں کے لیے پابندیاں بڑھائی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اقدامات ایران پر ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

وزیراعظم نے اسے ’’تاریخی سنگِ میل‘‘ قرار دیا۔ مکمل طور پر دیسی ٹیکنالوجی سے تیار ری ایکٹر بھارت کی توانائی خودکفالت کو مضبوط کرے گا۔ یہ منفرد صلاحیت بھارت کو محدود یورینیم وسائل کے باوجود زیادہ توانائی حاصل کرنے میں مدد دے گی اور صاف توانائی کے میدان میں ملک کو خودکفیل بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ثابت ہوگی۔

بھارتی سفارت خانے کے مطابق، اجیت ڈووال نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک خواہشات بھی پیش کیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے، علاقائی سکیورٹی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

’’گرین سانوی‘‘ کی کامیاب روانگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل حالات کے باوجود بھارت اپنی توانائی ضروریات کو پورا کرنے اور عالمی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سفارتی اور سکیورٹی اقدامات کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ عالمی تجارت، مہنگائی اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔ اس تناظر میں عالمی رہنماؤں کی سفارتی سرگرمیاں اس بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

یوکے میریٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق انہیں قطر کے علاقے راس لفان سے تقریباً 17 ناٹیکل میل شمال میں اس واقعے کی اطلاع ملی۔ جہاز کے سکیورٹی افسر نے بتایا کہ نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے جہاز کے بائیں حصے کو نشانہ بنایا، جس سے پانی کی سطح سے اوپر ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ 

سمٹ میں عالمی توانائی بحران کے تناظر میں بھارت کی توانائی سلامتی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور درآمدی انحصار میں کمی جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جاپان دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں سرکاری اور نجی ذخائر ملا کر تقریباً 254 دن کی کھپت کے برابر تیل موجود ہے۔ اس کے باوجود ملک اپنی 90 فیصد سے زیادہ خام تیل کی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ جنگی صورتحال میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جلد ہی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔