Bharat Express DD Free Dish

Missile attack on fuel tanker: قطر انرجی کی تصدیق، ایندھن بردار جہاز پر راس لفان کے قریب میزائل حملہ، عملہ محفوظ

یوکے میریٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق انہیں قطر کے علاقے راس لفان سے تقریباً 17 ناٹیکل میل شمال میں اس واقعے کی اطلاع ملی۔ جہاز کے سکیورٹی افسر نے بتایا کہ نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے جہاز کے بائیں حصے کو نشانہ بنایا، جس سے پانی کی سطح سے اوپر ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ 

دوحہ: قطر انرجی نے تصدیق کی ہے کہ اس کے چارٹر پر موجود فیول آئل ٹینکر ’’اکوا-1‘‘ پر بدھ کی صبح ریاست قطر کے شمالی سمندری حدود میں میزائل حملہ کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس واقعے میں جہاز کے تمام عملے کے افراد محفوظ رہے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ اس حملے کے نتیجے میں ماحولیات پر بھی کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔

حملے کی نوعیت اور تحقیقات

یوکے میریٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق انہیں قطر کے علاقے راس لفان سے تقریباً 17 ناٹیکل میل شمال میں اس واقعے کی اطلاع ملی۔ جہاز کے سکیورٹی افسر نے بتایا کہ نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے جہاز کے بائیں حصے کو نشانہ بنایا، جس سے پانی کی سطح سے اوپر ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔  ادارے نے مزید بتایا کہ جہاز کو دراصل دو پروجیکٹائلز نے نشانہ بنایا۔ ایک سے آگ لگ گئی تھی جسے بعد میں بجھا دیا گیا، جبکہ دوسرا بغیر پھٹے جہاز کے انجن روم میں موجود رہا۔ حملے کے ماخذ کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

راس لفان حملوں کے اثرات

اس سے قبل قطر کے اہم صنعتی علاقے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر ہونے والے میزائل حملوں نے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا تھا، جس کے باعث مائع قدرتی گیس کی برآمدی صلاحیت میں تقریباً 17 فیصد کمی واقع ہوئی۔ قطر انرجی کے مطابق 18 اور 19 مارچ 2026 کو ہونے والے ان حملوں میں اہم پیداواری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں سالانہ تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر کے نقصان کا خدشہ ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ مرمت کا عمل پانچ سال تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث کچھ ایل این جی معاہدوں پر طویل مدتی ’’فورس میجور‘‘ نافذ کرنا پڑا۔

توانائی تنصیبات کو نقصان

حملوں میں ایل این جی پیدا کرنے والے دو بڑے یونٹس، یعنی ٹرین 4 اور ٹرین 6، متاثر ہوئے جو مجموعی طور پر 12.8 ملین ٹن سالانہ پیداوار فراہم کرتے تھے، جو قطر کی کل برآمدات کا تقریباً 17 فیصد ہے۔ ان منصوبوں میں ExxonMobil کی بھی شراکت داری شامل ہے۔ اس کے علاوہ Shell کے زیر انتظام پرل جی ٹی ایل پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو قدرتی گیس کو صاف ایندھن، انجن آئل اور دیگر مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ واقعات عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی کو بڑھا رہے ہیں اور خاص طور پر ان ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہیں جو توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read