Bharat Express DD Free Dish

Elon Musk

بل کی منظوری کا عمل آسان نہیں تھا، کیونکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر مالیاتی قدامت پسندوں، خاص طور پر ہاؤس فریڈم کاکس، نے اس کے قرض میں اضافے اور سماجی پروگراموں میں کٹوتیوں پر اعتراضات اٹھائے۔ سینیٹ میں، بل 51-50 کے ووٹ سے منظور ہوا، جہاں نائب صدر جے ڈی وانس نے فیصلہ کن ووٹ کاسٹ کیا۔

ٹرمپ نے کہاتھا کہ سبسڈی کے بغیر، مسک کو "دکان بند کر کے واپس جنوبی افریقہ جانا پڑے گا۔مسک نے اس کے فوراً بعد جواب دیا، کہا کہ ریپبلکن رہنما کو اپنی دھمکی پر عمل کرنا چاہیے اور ان کی کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر دینی چاہیے۔ میں لفظی طور پر کہہ رہا ہوں کہ سب کچھ ختم کر دو۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ میں تقریباً ڈھائی سال سے جاری جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ غزہ جنگ بندی کی یہ تجویز امریکہ کی قیادت میں قطراورمصر کے تعاون سے تیارکی گئی تھی، جسے اسرائیل نے قبول کرلیا ہے۔ دوسری جانب، ایلن مسک نے ٹوئٹ کرکے ٹرمپ کے دعوے پرسوال اٹھایا ہے۔

ٹرمپ نے کہا، "ایلون مسک کافی عرصے سے جانتے تھے کہ میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) مینڈیٹ کے خلاف ہوں۔ یہ ایک احمقانہ پالیسی ہے۔ الیکٹرک کاریں ٹھیک ہیں، لیکن کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ٹرمپ کے بیان سے پہلے مسک نے بھی ایک تیز حملہ کیا۔

مسک نے اپنی پوسٹ میں لکھا، "اگر یہ پاگل پن بھرا اخراجات کا بل منظور ہوا، تو اگلے ہی دن امریکن پارٹی تشکیل دی جائے گی۔ ہمارے ملک کو ڈیموکریٹ-ریپبلکن یک جماعتی نظام کے متبادل کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی واقعی آواز ہو۔

مسک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صلح کے لیے تیار ہیں لیکن ذرائع نے بتایا کہ وہ بل میں اخراجات کو کم نہ کرنے پر فکر مند ہیں۔ انہوں نے یہ مسئلہ ریپبلکن مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت میں بھی اٹھایا تھا۔

ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت اچھا ہے کہ انہوں نے یہ کیا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ اس دوران امریکی حکومت نے ایلون مسک کی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے کسی معاہدے کا جائزہ نہیں لیا۔

صدر ٹرمپ نے مسک کے بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے مسک کی کمپنیوں کو دی گئی سبسڈی اور سرکاری معاہدے منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مسک اور میرے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے تعلقات مستقبل میں اچھے رہیں گے یا نہیں۔ میں ایلون مسک سے بہت مایوس ہوں۔ میں نے ایلون کی بہت مدد کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر سے ملاقات کے دوران کہا کہ میں ایلون مسک سے بہت مایوس ہوں۔ میں نے ان کی بہت مدد کی تھی۔

مسک سمیت ناقدین کا خیال ہے کہ اس بل کا مالی بوجھ طویل مدتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ مسک نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ غیر ذمہ دارانہ اخراجات اور ٹیکس پالیسیاں آنے والی نسلوں پر بوجھ ڈال سکتی ہیں۔