Bharat Express DD Free Dish

Elon Musk

ممبئی کے بعد ٹیسلا بھارت کی راجدھانی دہلی میں اگلا شوروم کھولے گی۔ حال ہی میں کمپنی نے ممبئی اور پونے میں مختلف عہدوں پر نوکریوں کے لیے آسامیاں نکالی تھیں،

اسٹار لنک پہلے ہی بھارت میں وی سیٹ (VSAT) فراہم کنندگان کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دستخط کر چکا ہے۔ وی سیٹ (ویری اسمال اپرچر ٹرمینل) سروس فراہم کرنے والے سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ اور مواصلاتی حل پیش کرتا ہے، خاص طور پر ان جگہوں کے لیے جہاں زمینی رابطہ محدود یا بالکل نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر لکھا: "مجھے ایلون مسک کو اس طرح پٹری سے اترا ہوا دیکھ کر افسوس ہوا۔ خاص طور پر پچھلے پانچ ہفتوں میں وہ مکمل طور پر بے قابو ہو گئے ہیں۔"

ایلون کا تھرڈ پارٹی شروع کرنا ٹیسلا اور اسپیس ایکس سے بہت ملتا جلتا ہے۔ کامیابی کے امکانات کم ہیں، لیکن اگر یہ کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ کھیل کو مکمل طور پر بدل دے گا۔  ایلون مسک نے اس کا مثبت جواب دیتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ نہ صرف خیالات بلکہ ممکنہ حکمت عملیوں پر بھی کام کر سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، "میں نے 2024 میں آئیووا کے لوگوں سے جو وعدے کیے تھے وہ اب پورے ہو رہے ہیں۔ یہ صرف ایک قانون نہیں ہے، بلکہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔"

بل کی منظوری کا عمل آسان نہیں تھا، کیونکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر مالیاتی قدامت پسندوں، خاص طور پر ہاؤس فریڈم کاکس، نے اس کے قرض میں اضافے اور سماجی پروگراموں میں کٹوتیوں پر اعتراضات اٹھائے۔ سینیٹ میں، بل 51-50 کے ووٹ سے منظور ہوا، جہاں نائب صدر جے ڈی وانس نے فیصلہ کن ووٹ کاسٹ کیا۔

ٹرمپ نے کہاتھا کہ سبسڈی کے بغیر، مسک کو "دکان بند کر کے واپس جنوبی افریقہ جانا پڑے گا۔مسک نے اس کے فوراً بعد جواب دیا، کہا کہ ریپبلکن رہنما کو اپنی دھمکی پر عمل کرنا چاہیے اور ان کی کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر دینی چاہیے۔ میں لفظی طور پر کہہ رہا ہوں کہ سب کچھ ختم کر دو۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ میں تقریباً ڈھائی سال سے جاری جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ غزہ جنگ بندی کی یہ تجویز امریکہ کی قیادت میں قطراورمصر کے تعاون سے تیارکی گئی تھی، جسے اسرائیل نے قبول کرلیا ہے۔ دوسری جانب، ایلن مسک نے ٹوئٹ کرکے ٹرمپ کے دعوے پرسوال اٹھایا ہے۔

ٹرمپ نے کہا، "ایلون مسک کافی عرصے سے جانتے تھے کہ میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) مینڈیٹ کے خلاف ہوں۔ یہ ایک احمقانہ پالیسی ہے۔ الیکٹرک کاریں ٹھیک ہیں، لیکن کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ٹرمپ کے بیان سے پہلے مسک نے بھی ایک تیز حملہ کیا۔

مسک نے اپنی پوسٹ میں لکھا، "اگر یہ پاگل پن بھرا اخراجات کا بل منظور ہوا، تو اگلے ہی دن امریکن پارٹی تشکیل دی جائے گی۔ ہمارے ملک کو ڈیموکریٹ-ریپبلکن یک جماعتی نظام کے متبادل کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی واقعی آواز ہو۔