Bharat Express DD Free Dish

Earthquake

گزشتہ روز جمعرات 22 مئی یونان میں بھی شدید زلزلہ آیا تھا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت ریکٹر اسکیل ر  6.0  ریکارڈ کی گئی  تھی،جس کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کردی گئی تھی۔

سنیچر کے روز افغانستان میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ قومی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق افغانستان میں 17 مئی 2025 کو صبح 4 بج کر 26 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ 36.37 ڈگری شمالی عرض البلد اور 69.83 ڈگری مشرقی طول بلد پر واقع تھا۔ زلزلے کی گہرائی 120 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

حالیہ دنوں میں ملک اور دنیا کے کئی حصوں میں زلزلوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہماری زمین کے اندر 7 ٹیکٹونک پلیٹیں ہیں۔ یہ پلیٹیں اپنی جگہ پر مسلسل گھومتی رہتی ہیں۔

تاجکستان میں ہفتہ کی دوپہر 12:30 پر 4.2 کی شدت کا زلزلہ بھی آیا۔ گزشتہ روز آنے والے زلزلے کا مرکز افغانستان تاجکستان سرحد پر تھا۔ آج کے زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں دو زلزلوں سے لوگوں میں خوف وہراس ہے۔

28 مارچ 2025 کو میانمار میں ایک خوفناک زلزلہ آیا۔ منڈالے کے علاقے میں اس زلزلے کی شدت 7.7 تھی۔ اس زلزلے نے ملک میں زبردست تباہی مچائی۔ یہ زلزلہ میانمار کی تاریخ کے سب سے تباہ کن زلزلوں میں سے ایک تھا۔

جموں و کشمیر میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا اور لوگ خوف و دہشت میں گھروں سے باہر نکل گئے۔ لداخ میں کچھ مقامات پر زلزلے کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے، ریختر پیمانے پر اس کی شدت 5.2 بتائی گئی ہے۔

ہندوستان کے پڑوسی ملک میانمارمیں جمعہ کوزلزلے کے خوفناک جھٹکے محسوس کئے گئے۔ ملک میں دوپہر7.7 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے کا مرکز میانمار کے دوسرے بڑے شہرمانڈلے کے قریب تھا۔ اس کے بعد تقریباً 11 منٹ بعد 6.4 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے۔ ان جھٹکوں میں اب تک 1000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

میانمار اور تھائی لینڈ میں آنے والے اس زلزلے کو 200 سال کا سب سے مہلک زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.7 بتائی گئی ہے۔

خبروں کے مطابق زلزلے سے زبردست نقصان ہوا ہے، مہلوکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمیوں کی تعداد 732 کے قریب پہنچ گئی ہے

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک کثیر المنزلہ عمارت کو اوپر سے کرین کے ساتھ گردو غبار کے بادل میں گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جب کہ وہاں موجود لوگ چیختے ہوئے بھاگ رہے ہیں۔ بنکاک میں بلند و بالا چھتوں پر پانی بھر گیا اور کئی عمارتوں سے ملبہ گرنے لگا۔