نیپال میں پیر کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.9 تھی۔ زلزلے کے اچانک جھٹکوں کے باعث لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ابھی تک جان و مال کے نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
زلزلہ صبح 8بج کر 24منٹ پر آیا
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق نیپال میں 30 جون 2025 کو صبح 8بج کر 24منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 3.9 تھی۔ اس کا مرکز زمین سے 14 کلومیٹر کی گہرائی میں 29.24 شمالی عرض البلد اور 81.77 مشرقی طول البلد پر تھا۔
29 جون کو بھی زلزلہ آیا تھا
اس سے قبل 29 جون کو دوپہر 2 بجکر 19 منٹ پر نیپال میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 4.2 تھی۔ اس کا مرکز زمین سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں 29.35 شمالی عرض البلد اور 81.94 مشرقی طول البلد پر تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ زلزلے سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
نیپال کے پڑوسی ملک تبت میں 23 مئی کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ بھارتی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 27 منٹ پر آیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گی۔ اس کی گہرائی 20 کلومیٹر تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے کسی قسم کے نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ نیپال ہندوستانی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان واقع ہے جس کی وجہ سے یہ زلزلوں کے لیے بہت زیادہ خطرہ ہے۔ 2015 میں گورکھا میں 7.8 شدت کے زلزلے میں 8 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔
نیپال میں ہر سال اوسطاً کئی چھوٹے اور درمیانے درجے کے زلزلے آتے ہیں۔ ہمالیہ کے علاقے میں پلیٹوں کے ٹکرانے سے مسلسل تناؤ جمع ہوتا ہے، جو زلزلوں کا سبب بنتا ہے۔ یہاں کی زیادہ تر عمارتیں زلزلے کے لیے مزاحم نہیں ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں اور کھٹمنڈو جیسے گنجان آباد شہروں میں۔ زلزلے اکثر لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنتے ہیں، جو پہاڑی علاقوں میں نقصان کو بڑھاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

