Bharat Express DD Free Dish

Delhi Riots 2020 Case

دہلی فساد معاملے میں ملزم عمرخالد کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے انہیں بہن کی شادی میں شامل ہونے کے لئے 16 سے 29 دسمبرتک عبوری ضمانت دی ہے۔ اس دوران عمرخالد سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرپائیں گے۔ وہ صرف فیملی اور رشتہ داروں سے ملاقات کر سکیں گے۔

سپریم کورٹ میں ضمانت کی سماعت کے دوران جسٹس اروند کمارنے پوچھا کہ "بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے" کا بیان کس نے دیا تھا۔ اس پرعمر خالد کے وکیل کپل سبل نے جواب دیا کہ یہ عمرخالد نہیں بلکہ کوئی اورطالب علم رہا ہوگا۔

شرجیل امام، عمرخالد، گلفشاں فاطمہ اور شفاءالرحمٰن پر دہلی فسادات کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ہونے کے لئے دہشت گردی مخالف قانون یواے پی اے اور آئی پی سی کے التزامات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے اور700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

دہلی فسادات معاملے میں شرجیل امام کی ضمانت پر سپریم کورٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ شاہین باغ احتجاج ٹرمپ کے دورے کے وقت ہی پلان کیا گیا، یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سازش تھی۔ اس کے ویڈیو ثبوت بھی پولیس نے پیش کیے۔

دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز شمال مشرقی دہلی فسادات 2020سے متعلق درج ایف آئی آرپر ہوئی تفتیش کی تازہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ جسٹس وویک چودھری اور جسٹس منوج جین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 21 نومبر مقرر کی ہے اور پولیس کے وکیل دھرو پانڈے سے تمام ایف آئی آر کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں۔

پراسیکیوشن کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ ’’خود رو‘‘ یا اتفاقیہ فسادات کا نہیں بلکہ ’’منصوبہ بند، بدنیتی پر مبنی اور گہری سازش‘‘ کا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر بھارت کو بدنام کرنا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے فروری 2020 کے دہلی فسادات میں سازش کرنے سے متعلق کیس کے ملزم شاداب احمد کی درخواست ضمانت پراپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یواے پی اے کے تحت گرفتار شاداب پرشہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہروں کے دوران فسادات بھڑکانے کا الزام ہے۔

شفاء الرحمن کی جانب سے سینئر وکیل سلمان خورشید نے ان الزامات کی تردید کی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران شفاء الرحمان نے مالی امداد فراہم کی۔

دہلی کی ایک عدالت نے فروری 2020 میں قومی دارالحکومت میں ہونے والے فسادات کے دوران دو افراد کے قتل کے الزام میں 12 افراد کو بری کر دیا ہے۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرامت پرساد نے دلیل دی تھی کہ دہلی میں فسادات کی بڑی سازش میں کپل مشرا کے رول کی پہلے ہی چھان بین ہوچکی تھی۔ سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کوبتایا تھا کہ کپل مشرا کوپھنسانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔