Bharat Express DD Free Dish

Delhi riots case: ’’شفاء الرحمان کے فسادات کی سازش میں شامل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں‘‘، سلمان خورشید نے کڑکڑڈوما عدالت میں دی دلیل

شفاء الرحمن کی جانب سے سینئر وکیل سلمان خورشید نے ان الزامات کی تردید کی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران شفاء الرحمان نے مالی امداد فراہم کی۔

کڑکڑڈوما کورٹ نے پیر کو 2020 دہلی فسادات کی بڑی سازش سے متعلق کیس میں ملزم شفا الرحمان کی جانب سے دلائل سنے۔ عدالت نے 2020 کے دہلی فسادات کیس میں الزامات طے کرنے پر دلائل کی سماعت کی، جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق طلباء ایسوسی ایشن کے سابق صدر شفاء الرحمان اور دیگر کارکنوں اور طلبہ لیڈران کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے۔

پولیس کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ 2020 کے دہلی فسادات ایک بڑی سازش کا نتیجہ تھے جو مبینہ طور پر شفاء الرحمان سمیت تمام ملزمان کی طرف سے رچی گئی تھی۔ دہلی پولیس کے مطابق شفاء الرحمان جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی (جے سی سی) اور جے ایم آئی کوآرڈینیشن کمیٹی اور جے سی سی جے ایم آئی کے واٹس ایپ گروپ کا رکن تھا۔

شفاء الرحمن کی جانب سے سینئر وکیل سلمان خورشید نے ان الزامات کی تردید کی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران شفاء الرحمان نے مالی امداد فراہم کی۔ سلمان خورشید نے کہا کہ ملزم ایسے کسی بھی واٹس ایپ گروپس کا ممبر نہیں تھا جس میں قانون کے تحت کوئی قابل اعتراض سرگرمی پائی گئی ہو اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس نے جامعہ کے باہر سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین کو پیسے دیے۔

11 جولائی کو ہوگی مزید سماعت

دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) سمیر باجپئی نے اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 11 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ مقدمے میں تحریری درخواستیں داخل کی جائیں۔ سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ ملزم جامعہ ملیہ اسلامیہ کا پرانا طالب علم ہے۔ انھوں نے دلیل دی کہ اگر ملزمان نے ’’مظاہرین کے لیے کھانا یا بارش کے غلاف خریدنے کے لیے رقم دی ہے، تب بھی یہ احتجاج کے دوران معمول کی کارروائیاں ہیں اور اسے سازش کے مترادف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ سینئر وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تفتیشی ایجنسی کی جانب سے کوئی ثبوت نہیں دکھایا گیا کہ ملزمان نے مظاہرین کو رقم دی ہے۔

واضح رہے کہ شفاء الرحمان کے ساتھ ساتھ عمر خالد، شکیل امام، طاہر حسین، نتاشا نروال، دیونگنا کلیتا اور دیگر سمیت اٹھارہ ملزمین کو 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات میں ’’بڑی سازش‘‘ کے الزامات کا سامنا ہے۔ دہلی پولیس نے ان کے خلاف چارج شیٹ اور ضمنی چارج شیٹ داخل کی ہے، جن پر یو اے پی اے اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read