Urdu Conclave 2026

cultural diplomacy

اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے ڈاکٹر رابرٹ گافریک سے ملاقات کی، جنہوں نے اپنشدوں کا سلوواک زبان میں ترجمہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کی ہے۔ وزیر اعظم نے اس اقدام کو بھارت اور سلوواکیہ کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ نمائش دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے ثقافتی روابط کی علامت ہے۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ فن اور ثقافت بھارت اور سلوواکیہ کے درمیان دوستی کے مضبوط پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اطالوی مصور توماسیٹی نے وزیراعظم مودی کو وارانسی یعنی کاشی کی ایک دلکش پینٹنگ تحفے میں پیش کی، جسے ہندوستان اور اٹلی کی ثقافتوں کے درمیان ایک خوبصورت فنکارانہ پل قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم مودی نے جیامپاؤلو توماسیٹی کی ہندوستانی تہذیب اور ثقافت سے وابستگی کی بھرپور تعریف کی۔

اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں دونوں ممالک کے درمیان کئی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کا تبادلہ بھی ہوا۔ یہ پیش رفت ہندوستان اور جنوبی کوریا کے درمیان سفارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی کے رائے پتھورا کلچرل کمپلیکس میں مقدس پپرہوا آثار کی عظیم بین الاقوامی نمائش ’’دی لائٹ اینڈ دی لوٹس: بیدار ذات کے آثار‘‘ کا افتتاح کیا۔ یہ نمائش 127 برس بعد وطن واپس لائے گئے بھگوان بدھ کے جواہراتی آثار کو یکجا کرنے کا ایک تاریخی لمحہ ہے۔

اس نمائش میں ملک اور بیرون ملک سے مؤرخین، ثقافتی ماہرین اور بدھ مت کے پیروکار بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں، جو بھارت کی قدیم تہذیبی وراثت کے تحفظ اور فروغ کی کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔

موسیقی کے ذریعے بھارت–برطانیہ ثقافتی رشتے کو نیا رنگ، وزیر اعظم مودی نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا: ’’یہ پیشکش دونوں ملکوں کی ثقافتی شراکت داری کی بہترین مثال ہے‘‘

وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر اور آچاریہ لوکیش مُنی کے درمیان ہونے والی یہ معنویت سے بھرپور ملاقات، بھارت کے امن کے مشن میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے ذریعے بین الاقوامی پیغامِ عدم تشدد اور معاشرتی ہم آہنگی کو ایک نیا عہد ملنے کی امید ہے۔

اگر ہندوستان اور کینیڈا ساتھ مل کر کام کریں تو دنیا میں امن اور ہم آہنگی ممکن ہے، ہندوستانی ثقافت اور جین مت کی تعلیمات آج کے دور میں اور بھی زیادہ متعلقہ ہیں – آچاریہ لوکیش جی

ہر ایک تحفہ اپنے اندر بھارت کی ایک الگ تہذیبی کہانی سمیٹے ہوئے تھا۔ یہ تحائف نہ صرف خیر سگالی کے پیغام رساں بنے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کے فنون، اقدار اور روحانی ورثے کو عزت و افتخار کے ساتھ پیش کیا۔ یہ تحائف صرف رسمی تبادلے کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی روح، روایت اور فنون کا عالمی تعارف ہیں۔