Urdu Conclave 2026

cultural diplomacy

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر پوتن کو ’تروککورل‘ کا روسی ترجمہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عظیم شاعر تروولوور کی صدیوں پرانی دانش مندی کو زبان اور سرحدوں کی رکاوٹوں سے آگے پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔

اس تاریخی تقریب سے نئی دہلی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے اسٹریٹجک تعلقات آج ایک نئی اور بے مثال بلندی تک پہنچ چکے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پیرس میں قائم یہ شاندار سوامی نارائن مندر محض عبادت گاہ نہیں، بلکہ آنے والی کئی صدیوں تک بھارت اور فرانس کے درمیان باہمی اعتماد، گہری دوستی اور بے شمار مواقع کی علامت کے طور پر قائم رہے گا۔

وزیر اعظم مودی نے طلبہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ نوجوانوں کو اپنی نظمیں پڑھتے ہوئے سننا ان کے لیے ایک جذباتی تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہت عرصہ پہلے میرے ذریعے لکھی گئی نظمیں، آج مجھے یہ موقع ملا کہ میں انہیں ان نوجوانوں کی زبانی سنوں۔

یوگا پروگرام سے قبل وزیر اعظم مودی نے صدر شوکت مرزایوف کے ساتھ ’یانگی ازبکستان میموریل‘ کا دورہ کیا۔ انہوں نے یہاں پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا اور اس یادگار کو ازبک عوام کی امنگوں اور ملک کی ترقی کی علامت قرار دیا۔

نیوزی لینڈ پہنچنے سے قبل وزیراعظم مودی نے آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے کامیاب دورے مکمل کیے، جہاں دفاع، توانائی، اہم معدنیات، کھیل، گرین ہائیڈروجن، یورینیم کی فراہمی اور بحرالکاہل خطے میں تعاون سمیت متعدد اہم معاہدوں اور اعلانات پر اتفاق ہوا۔ 

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ آکلینڈ میں وزیراعظم نریندر مودی کے استقبال کے لیے مشہور اسکائی ٹاور کو خصوصی روشنیوں سے سجایا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور باہمی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور آزاد، کھلے اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آسٹریلیا کی حکومت اور وزیراعظم انتھونی البانیز کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ بھی ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نئی دہلی اور جکارتہ کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن دونوں ممالک کو جدا کرنے والا سمندر درحقیقت انہیں جوڑنے والا ایک مضبوط پل ہے، جو مستقبل میں بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم نے انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ کی مشہور فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کا گیت انڈونیشیا میں بے حد مقبول ہے، لیکن جب بھارت اور انڈونیشیا مل کر آگے بڑھتے ہیں تو صرف ’’کچھ کچھ‘‘ نہیں بلکہ ’’بہت کچھ‘‘ ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے تین روزہ سرکاری دورۂ سیشلز کے دوران وہاں کی قیادت کو بھارت کی متنوع ثقافتی روایات اور فن دستکاری کی نمائندگی کرنے والے خصوصی تحائف پیش کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور مشترکہ اقدار کی علامت ہیں۔