Bharat Express DD Free Dish

Congress

ہاوسنگ کمیٹی کی جانب سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے جس کے تحت جس سرکاری بنگلہ کو رکنیت منسوخ ہونے کے بعد راہل گاندھی نے خالی کیا تھا ، اب ایک بار پھر راہل گاندھی اسی بنگلہ میں رہیں گے چونکہ ہاوسنگ کمیٹی نے کوئی دوسرا بنگلہ دینے کے بجائے پرانا بنگلہ ہی راہل گاندھی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے کہا کہ یہ تحریک عدم اعتماد ہماری مجبوری ہے، یہاں تعداد کی بات نہیں ہے بلکہ بات منی پور کی ہے۔ وزیراعظم کو اس پر بولنا چاہئے۔

Parliament Monsoon Session 2023: اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی تجویز پر لوک سبھا میں دوپہر 12 بجے سے بحث ہوگئی ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے کانگریس نے ابتدائی بحث کا آغاز کیا۔

راگھو چڈھا نے کہا کہ، 100 سے زائد ووٹ دہلی سروس بل کے خلاف پڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں ہم بھلے ہی اس بل کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئے ہو لیکن ہم کورٹ میں اس کے خلاف پر زور لڑائی لڑیں گے۔

کانگریس لیڈر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میرا ماننا ہے کہ غلام نبی آزاد کو رکن پارلیمنٹ کی مدت پوری ہونے کے بعد نئی دہلی کے بڑے بنگلے میں اپنے قیام کی مدت میں توسیع کا جواز پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو بتادیں کہ جموں و کشمیر کے کئی لیڈر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔

شیوراج سنگھ چوہان پر طنز کرتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا کہ ’’اگر شیوراج سنگھ چوہان چاہیں تو وہ کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے مقامی لیڈروں کی منظوری لینی ہوگی۔‘‘

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق لوک سبھا حکام کا کہنا ہے کہ عام طور پرعدالت کا فیصلہ پڑھنے کے 30 منٹ کے اندر اندر کارروائی شروع کردی جاتی ہے

اس فیصلے سے  انڈیا اتحاد پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ کانگریس جتنی مضبوط ہوگی اتحاد اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ آل انڈیا الائنس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ راہل گاندھی کی رکنیت بحال ہونے سے کانگریس کے ساتھ اتحاد کو بھی تقویت ملے گی۔ اپوزیشن کا اتحاد مضبوط ہوگا اور جارحیت بھی بڑھے گی۔ راہل بی جے پی کے خلاف سب سے مضبوط آواز ہیں۔

درحقیقت ضرورت کا معاملہ یہیں سے ختم ہوتا ہے اور سیاسی مجبوری کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ کرناٹک کے حالیہ انتخابات میں جس طرح سے اس مطالبے نے پسماندہ ذات کے ووٹروں کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، اس سے یہ یقینی ہے کہ یہ 2024 میں ایک بڑا انتخابی مدعا بن جائے گا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو ملی راحت نے ان کے پارلیمنٹ میں دوبارہ داخلے کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس وقت قابل ذکر بات یہ ہے کہ لوک سبھا سکریٹریٹ کو ان کی رکنیت بحال کرنے میں کتنا وقت لگے گا اور کیا وہ حکومت پر عدم اعتماد کے ووٹ پر منگل کی بحث میں حصہ لے سکیں گے۔