Bharat Express DD Free Dish

Congress

بالاگوپال نے الزام لگایا کہ حال ہی اُن کے کٹارکاڑا اسمبلی حلقہ کے تحت آنے والے اُمنور گرام پنچایت میں بی جے پی کی حمایت سے کانگریس کی جیت ان کے "ناپاک تعلقات" کا واضح اشارہ ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر راجیش ٹھاکر نے کہا کہ ہم بھی حکومت میں شامل ہیں۔ عوام کو بھی ہم سے بہت سی توقعات ہیں اور ہم عوام کی حفاظت کے بھی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ریاست میں جو صورتحال ہے وہ قابل مذمت ہے۔ عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

مسلمانوں کے بغیر مضبوط کانگریس کا تصور ادھورا ہے، مسلمان ہمیشہ کانگریس کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، کانگریس بغیر کسی خوف کے مسلمانوں کے تئیں اپنا موقف واضح کرے۔ یہ بات انڈین مسلم فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے سربراہ اور راجیہ سبھا کے سابق رکن محمد ادیب نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کہی۔

خواتین پر مظالم کے متعلق اسمبلی میں اپنی ہی حکومت کو گھیرنے پر برطرف کیے جانے کے ایک دن بعد گوڑھا نے پیر کے روز اسمبلی میں لال ڈائری لہرائی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ راجستھان میں دلتوں پر مظالم عروج پر ہیں۔ منشیات کا کاروبارعروج پر ہے۔ ہمارے تیج تہواروں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ پتھر کب برسیں گے، کب گولیاں برسیں گی، کب کرفیو لگے گا۔ راجستھان کے لوگ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو برداشت نہیں کر سکتے۔

اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کو وہ منی پور کے معاملے پر احتجاج کے لیے سیاہ کپڑے پہن کر ایوان میں آئیں گے۔ کانگریس نے اپنے راجیہ سبھا ممبران کو 27 جولائی کو پارلیمنٹ میں حاضر ہونے کا وہپ جاری کیا ہے۔

لوک سبھا الیکشن میں کم وقت ہونے کے سبب راہل گاندھی بھارت جوڑو یاترا-2 شروع کرنے جا رہے ہیں، جس کا آغاز 15 اگست سے ہو سکتا ہے۔

شیوکمار نے صحافیوں سے کہا، ''یہ سب جھوٹ ہے، کسی نے ایسا خط نہیں لکھا ہے۔ چیف منسٹر اور میں نے تمام وزراء سے درخواست کی ہے کہ وہ تمام ایم ایل ایز اور تمام حلقوں کے ہارے ہوئے امیدواروں کو اعتماد میں لے کر کام کریں۔

ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ ہمارے دشمن دوست بن چکے ہیں۔ میرے پاس ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات ہیں جو کرناٹک میں کانگریس حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ بنانے کے لیے (سنگاپور) گئے ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس حکومت کے خلاف سنگاپور میں حکمت عملی چل رہی ہے۔

اشوک گہلوت حکومت پرسوال اٹھانے والے کے بعد وزیر عہدے سے معطل کئے جانے والے راجیندر گڑھا کو اسمبلی سے مارشلوں نے باہر کردیا ہے۔ اس کے بعد وہ رونے لگے اور کہا کہ میری لال ڈائری بھی چھین لی گئی ہے۔