Bharat Express DD Free Dish

Cockroach Janata Party

 کیجریوال نے زخمی طلبہ کی عیادت کی اور الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سب سے بڑے ملک دشمن ہیں۔ انھوں نے بچوں کا درد بیان کرتے ہوئے پی ایم مودی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ، "یہ بچے آپ سے پیپر لیک کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں- کیا آپ ایک پیپر لیک کو بھی نہیں روک سکتے؟ یا تو آپ بے بس ہیں، "

پولیس کی مبینہ کارروائی کے دوران برگر کھانے کی ویڈیو پر پارٹی نے ’انتہائی غیر حساس رویے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پارٹی ترجمان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں پارٹی کی تمام ذمہ داریوں اور عہدوں سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ وجیتا دہیا نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کچھ غلط نہیں تھا۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے جاتے ہیں۔پارلیمنٹ کمپلیکس کی سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری مرکزی صنعتی حفاظتی فورس (سی آئی ایس ایف) کے پاس ہے، جو مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔ تقریباً 3300 سی آئی ایس ایف اہلکار مختلف شفٹوں میں پارلیمنٹ کی حفاظت پر تعینات رہتے ہیں۔ ان میں کمانڈوز، فائر فائٹرز،

مرکزی وزیر نے کہا کہ انہوں نے تمام مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا دھرنا ختم کریں اور معمول کی صورتحال بحال کرنے میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔تاہم سی جے پی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے ابھی تک ان کے مطالبات پر کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی گئی، اس لیے احتجاج ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے،

کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرہ کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے درمیان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سی جے پی نے سوشل میڈیا کے ذریعہ پوری تفصیل بتائی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت تک پہنچ گئے ہیں۔ اس احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی میں زبردست اضافہ کردیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت کا مین گیٹ بند کردیا گیا ہے۔ پولیس نے بھیڑ پر قابو پانے کے لئے آنسوگیس کے گولے داغے۔

کانگریس لیڈران پون کھیڑا سمیت متعدد اپوزیشن لیڈران، جن میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، این سی پی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت شامل ہیں، نے بھی سونم وانگچک کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی۔

سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران احتجاجی مقام پر موجود مظاہرین نے شدید مخالفت کی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی دھکم پیل بھی ہوئی اور حکومت و پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ تاہم پولیس نے سونم وانگچک کو ہجوم کے درمیان سے محفوظ طریقے سے ایمبولینس تک پہنچایا اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا۔

 دیپکے نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے لداخ سے متعلق مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران وہ جذباتی ہو گئے اور ان کی آواز بھرّا گئی، جس کے بعد وہ اسٹیج پر ہی رونے لگے۔

 ابھیجیت دیپکے نے کہا ، "میں سمجھ نہیں پاتا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ اتنے بے حس اور مغرور کیسے ہو سکتے ہیں کہ انہیں ان خاندانوں سے رابطہ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا ہے۔ آپ ان کے بچوں کو واپس نہیں لا سکتے، لیکن کم از کم ان سے مل کر افسوس اور معافی تو مانگ سکتے ہیں۔