Bharat Express DD Free Dish

CMD Upendrra Rai

تیسرا سیشن دوپہر 02:30 سے 03:15 بجے تک چلے گا، جس میں پینل ڈسکشن ہوگا۔ پینلسٹ میں جشن بہار ٹرسٹ کی بانی کامنا پرساد، ڈائریکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، حکومت ہند کے ڈاکٹر شمس اقبال، شاعر اور بانی جشنِ ادب ساہتیہ اتسو فاؤنڈیشن کے کنور رنجیت چوہان شامل ہوں گے۔

بابو گیندسنگھ کو نہ صرف کشی نگر بلکہ پورے پوروانچل میں جدوجہد آزادی کا ایک صف اول کا  مجاہد آزادی ماناجاتا ہے۔ برسوں تک انہوں نے پارلیمنٹ اور ریاستی حکومت میں سماجی انصاف اور دیہی ترقی کے مسائل کی بھرپور حمایت کی۔

بابو گیندا سنگھ جی کو نہ صرف کشی نگر بلکہ پورے پوروانچل میں جدوجہد آزادی کا ایک صف اول کے  آزادی کے مجاہد مانے جاتے ہیں۔ برسوں تک انہوں نے پارلیمنٹ اور ریاستی حکومت میں سماجی انصاف اور دیہی ترقی کے مسائل کی بھرپور حمایت کی۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سی ایم ڈی اپیندر رائے اور ان کے خاندان کو یقین دلایا کہ وہ اس غم میں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے راجیش رائے کے سماجی خدمات اور ان کے شفیق مزاج کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال نہ صرف خاندان کے لیے بلکہ پورے سماج کے لیے ایک بڑی نقصان دہ خبر ہے۔

غازی پور لٹریچر فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے کہا کہ میڈیا ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس نے متوسط طبقے کو نئی سمت اور چھلانگ لگانے کے لیے ہوا دی ہے۔

آنجہانی راجیش رائے کا تعلق بنیادی طور پر غازی پور ضلع کی محمد آباد تحصیل کے شیرپور کلاں گاؤں سے تھا۔ وہ طویل عرصے تک اپنے آبائی گاؤں میں مقیم رہے اور سماجی خدمت میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی سادگی اور فیاضی کے باعث وہ معاشرے میں نہایت مقبول تھے۔

پوروانچل کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا ادب اور فن کا جشن قرار دیے جانے والے اس پروگرام میں تقریباً 100 ممالک سے نامور شخصیات شرکت کریں گی۔ یہ تقریب غازی پور کی شاندار ادبی، تاریخی اور ثقافتی وراثت کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گی۔

آج ان کی آخری رسومات میں موجود ہر شخص نے اپنے پیارے راجیش رائے کو نم  آنکھوں سے خراج عقیدت پیش کی۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آخری ایام تک لوگوں کی خدمت کرتے رہے اور سادہ زندگی گزار کر سب کے لیے ایک تحریک بن گئےتھے۔

یہ پروگرام ماتا چکیری دیوی فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی اُپیندر رائے کی قیادت میں منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد دہلی میں بھوجپوری اور میتھلی ثقافت کو فروغ دینا تھا۔

اس شاندار فیسٹیول کے ذریعے شہری ناظرین کو دیہی زندگی، لوک فنون اور رسم و رواج سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔