Maharashtra: ’’مہاراشٹر میں صرف مراٹھی لازمی ہے، دوسری زبانیں سیکھنا ذاتی انتخاب‘‘، مہاراشٹر میں ہندی لازمی کیے جانے پر جاری ہنگامےکے بیچ وزیر اعلیٰ فڑنویس نے کی وضاحت
میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ فڑنویس نے ہندی کی مخالفت اور انگریزی کی بڑھتی ہوئی ترجیح پر حیرت کا اظہار کیا۔
Defence exports: دفاعی برآمدات 2029-30 تک بڑھ کر 50,000 کروڑ روپے ہو جائیں گی: راج ناتھ سنگھ
سینئر دفاعی عہدیداروں اور پرائیویٹ دفاعی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کچھ سال پہلے تک دنیا بھر کی دفاعی کمپنیاں گلوبلائزڈ اور پیچیدہ سپلائی چینز پر منحصر تھیں جو کئی ممالک میں پھیلی ہوئی تھیں۔
FIR against mosques in Maharashtra: مہاراشٹر کی 72 مساجد کے خلاف بی جے پی کے سینئر لیڈر نے درج کرائی ایف آئی آر،ہوسکتی ہے بڑی کارروائی ،جانئے کیا ہے معاملہ
بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے کہا کہ میں نے 5 اپریل کو گوونڈی کے شیواجی نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی کہ 72 مساجد پر غیر مجاز لاؤڈ اسپیکر لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ لاؤڈ اسپیکر بغیر کسی قانونی اجازت کے لگائے گئے ہیں۔
Kunal Kamra should apologize’, CM Fadnavis: ایسی کامیڈی برداشت نہیں کرسکتے،کنال کامرا معافی مانگے:سی ایم دیویندر فڑنویس
سی ایم نے کہا کہ کامیڈی کرنا حق ہے، لیکن اگر نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے کو بدنام کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔ کنال کامرا نے وہی سرخ آئینی کتاب پوسٹ کی ہے جسے راہل گاندھی نے دکھایا تھا۔
Nagpur Violence: ’’ہمت ہے تو اورنگ زیب کی قبر ہٹا کر دکھائیں…‘‘، ناگپور تشدد پر کانگریس کے اس بڑے لیڈر نے سی ایم فڑنویس کو کیا چیلنج
کانگریس لیڈر حسین دلوئی نے کہا کہ ناگپور میں احتجاج کی کیا ضرورت تھی۔ یہ صرف لوگوں کی توجہ اصل مدعے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔ دوسری طرف جس طرح چادر کو جلایا گیا۔ اس سے میرے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا، اگر پولیس ان کو پہلے اندر کر دیتی تو یہ تشدد نہیں ہوتا۔
CM Devendra Fadnavis on Nagpur Violence: آیت والی کوئی چادر ناگپور میں نہیں جلائی گئی،یہ افواہ جان بوجھ کر پھیلائی گئی،اسمبلی میں سی ایم فڑنویس کا بیان
سی ایم فڑنویس نے کہاکہ میں رائے گڑھ پولیس اور عدالت کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ پولیس نے 24 گھنٹے کے اندر چارج شیٹ داخل کی اور عدالت نے بھی 24 گھنٹے کے اندر سزا سنائی۔ 48 گھنٹے کے اندر نتیجہ سامنے آجائے گا۔





