Bharat Express DD Free Dish

CJP

کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق حکومت نے اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ دیگر ریاستیں بھی مظاہرین کے تحفظ سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گی۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے طلبا کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ پارٹی پنجاب میں امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے معاملے کا جائزہ لے گی اور جلد اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔

کھساری لال یادو نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کی جمع پونجی چوری ہو جائے تو اسے شدید تکلیف ہوتی ہے، اور طلبہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان برسوں سے محنت کر رہے تھے، لیکن اب انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ان کا مستقبل ہی ان سے چھین لیا گیا ہو۔

ترنمول کانگریس سربراہ نے کہا کہ یہ ملک اپنے طلبہ، کسانوں، خواتین، مزدوروں اور ہر شہری کا ہے۔ اختلافِ رائے کوئی جرم نہیں اور نہ ہی سختی اور تشدد کو بہتر حکمرانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں عوام کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سنا جانا چاہیے۔ممتا بنرجی نے سی جے پی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے نوجوان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں

کیجریوال نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، "یہ ہمارے ہی ملک کے بچے ہیں، جو انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ان پر لاٹھی چارج کرنا مناسب نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضد اور انا کو ترک کرے اور نوجوانوں کے جائز مطالبات سنے۔"پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے جاتے ہیں۔پارلیمنٹ کمپلیکس کی سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری مرکزی صنعتی حفاظتی فورس (سی آئی ایس ایف) کے پاس ہے، جو مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔ تقریباً 3300 سی آئی ایس ایف اہلکار مختلف شفٹوں میں پارلیمنٹ کی حفاظت پر تعینات رہتے ہیں۔ ان میں کمانڈوز، فائر فائٹرز،

کانگریس لیڈران پون کھیڑا سمیت متعدد اپوزیشن لیڈران، جن میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، این سی پی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت شامل ہیں، نے بھی سونم وانگچک کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی۔

سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران تحریک کے منتظم ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کی کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک بار پھر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر 13 جون تک استعفیٰ نہیں دیا گیا تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

دہلی پولیس نے واضح کیا ہے کہ جنتر منتر میں احتجاج سے متعلق پہلے سے نافذ ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں اجازت منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ احتجاج کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے جبکہ ٹریفک پولیس بھی مکمل طور پر چوکس رہے گی۔