Bharat Express DD Free Dish

BRICS Summit 2026

نئی دہلی میں منعقد ہونے والی 18ویں برکس سربراہی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ برکس محض ممالک کا ایک گروپ نہیں بلکہ دنیا کے مشترکہ مسائل کے حل تلاش کرنے والا ایک مضبوط نظام بن چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’نئی دہلی اعلامیہ‘ مشترکہ وژن کو تعاون کی ایک نئی سمت فراہم کرے گا۔

پی ایم مودی نے کہا کہ امید ہے کہ سربراہی اجلاس میں منظور کیا گیا ’نئی دہلی اعلامیہ‘ ہماری مشترکہ سوچ اور مستقبل کے تعاون کے لیے ایک واضح سمت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام نتائج کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جانے والے اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا، جن کا اثر زمینی سطح پر بھی نظر آئے۔انہوں نے کہا، ہم مل کر یہ یقینی بنائیں گے کہ ہمارا فریم ورک صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ حقیقی زندگی میں اس کا ٹھوس اثر دکھائی دے۔‘‘

شی جن پنگ کا ہندوستان دورہ کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد ہوا۔ ان میں بیجنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان خصوصی نمائندہ سطح کی بات چیت بھی شامل ہے۔ اروناچل پردیش کے علاقے میں چین کی جارحانہ فوجی سرگرمیوں کو لے کر خدشات اب بھی برقرار ہیں۔

پی ایم مودی نے کہا کہ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان نے برکس ممالک کو ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تیار رکھنے پر زور دیا ہے۔ اس کے تحت متعدی بیماریوں کی شناخت اور روک تھام کے لیے برکس مربوط ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آفات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی انتباہی اعداد و شمار کے انضمام سے متعلق رہنما اصول بھی تیار کیے گئے ہیں۔

عشائیے کے دوران جب پیانو پر دھن بج رہی تھی تو ملائیشیا کے وزیر اعظم نے 1965 کی فلم ’تین دیویاں‘ کا گانا ’خواب ہو تم یا کوئی حقیقت‘ گانا شروع کر دیا۔ کشور کمار کے اس مشہور گانے کی دھن پورے ہال میں گونجنے لگی۔ انور ابراہیم کی شاندار پیشکش نے پوری شام کو خوشگوار بنا دیا۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران منعقدہ عشائیے سے متعلق معلومات شیئر کیں۔

برکس سربراہی اجلاس 2026 میں 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے لیڈروں کے علاوہ کئی دیگر بین الاقوامی تنظیمیں بھی شرکت کر رہی ہیں۔شی جن پنگ ہفتہ کی دوپہر نئی دہلی پہنچے تھے اور انہوں نے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کی۔

پیزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے لکھا، ’’اگر امریکی جنگجو ہیں تو انہیں ہماری بہادر فوج کا سامنا کرنے دیں۔ عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے، کھانے پینے کی اشیا اور روزگار کے ذرائع پر حملہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

18ویں برکس سربراہی اجلاس کے پہلے دن ہفتہ کو وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں برکس ممالک کے سربراہانِ مملکت، وفود اور خصوصی مہمانوں کے اعزاز میں شاندار گالا ڈنر کا اہتمام کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس سے الگ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کی۔ دونوں لیڈروں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات فطری ہیں، لیکن انہیں تنازع کی شکل نہیں لینے دینا چاہیے۔

ڈیٹا خودمختاری کی دوڑ میں برکس اپنے آزاد اور محفوظ کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے، تاہم مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا بڑا چیلنج ہے۔