Bharat Express DD Free Dish

BMC

ممبئی میں لوگوں کا کبوتروں کو کھانا کھلانا صدیوں پرانا رواج ہے جو کئی بار تنازعات کا سبب بھی بن چکا ہے۔ ہندوستانی ثقافت میں، کبوتروں کو کھانا کھلانا ایک نیک عمل سمجھا جاتا ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کبوتروں کو کھانا کھلانے سے مردہ آباؤ اجداد کی روح کو تسکین ملتی ہے۔

2012 میں شہری انتظامیہ نے عمارت کی منظوریوں میں تیزی لانے، بدعنوانی کو روکنے اور تاخیر کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے ایک سرکلر جاری کیا تھا۔ لیکن اسے بڑی آسانی سے فراموش کر دیا گیا۔ سرکلر میں منصوبوں کی منظوری کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 دن کا وقت مقرر کیا گیا تھا اور محکمہ کے عملے کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اس مدت کے اندر منصوبوں کی منظوری میں ’کسی بھی کوتاہی‘ کو ’سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔’

اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے لکھا کہ کسی کامیڈین کے الفاظ کی وجہ سے کسی مقام پر حملہ کرنا اتنا ہی احمقانہ ہے جتنا کہ ٹماٹر لے جا رہے ایک ٹرک کو اس لیے پلٹ دینا، کیونکہ پیش کیا گیا بٹر چکن آپ کو پسند نہیں آیا۔

بی ایم سی کی ٹیم اس اسٹوڈیوکوتوڑنے پہنچی ہے، جس میں کنال کامرا نے شوکیا تھا۔ انہوں نے اپنے شومیں مہاراشٹرمیں نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے پرطنز کیا ہے۔

آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی پانچ گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کی کوشش کی۔ آتشزدگی کے اس واقعہ میں ابھی تک کسی کے زخمی ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جائیداد کی رجسٹریشن میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 2 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے، جب کہ اسٹامپ ڈیوٹی کی وصول یابی میں سال بہ سال 24 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے

بی ایم سی انتخابات کے حوالے سے سیاسی جماعتیں سرگرم نظر آ رہی ہیں اور سبھی اپنی اپنی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں۔ ادھر مہاراشٹر میں سماج وادی پارٹی کے صدر ابو اعظمی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی پارٹی یہ انتخابات اکیلے ہی لڑے گی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 'پہلے بس نے ایک آٹو کو ٹکر ماری اور پھر ایک کے بعد ایک گاڑیوں سے ٹکراتی چلی گئی۔ بہت سے پیدل چلنے والے اور ہاکر بھی بس کی زد میں آ گئے ،کچھ ہی دیر میں سڑک پر لوگوں کی چیخ و پکار مچ گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق سات ارکان کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔ چار فائر ٹینڈرز، ایک واٹر ٹینکر، ایم ایف بی اور بی ایم سی کے سینئر اہلکار موقع پر موجود تھے اور آگ بجھانے کے کاموں کی نگرانی کر رہے تھے۔

صورتحال کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات کر دی گئی ہے۔ دھاراوی میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ بی ایم سی کے عہدیداروں کے ساتھ پولس حکام مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں سے اس معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں۔