Bharat Express DD Free Dish

BJP government

لوک سبھا میں اس آئینی ترمیمی بل کے پاس نہ ہو پانے کے بعد کانگریس نے اب جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ملک گیر سطح پر اس مسئلے کو عوام تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل کو ملک کے 29 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنس کرے گی، جس میں پارٹی کے سرکردہ رہنما عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کریں گے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان مظاہروں میں شامل نوجوانوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے لوگوں کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ وہ معمولی رقم کے لیے بھی ایسے کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ جس افسر کی ذمہ داری ان کی سکیورٹی دیکھنا ہے، اسی کے گھر پر مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”آپ کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ مجھے ختم کر کے بنگال جیتنا چاہتے ہیں؟“ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی انہیں نقصان پہنچا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ کامیاب نہیں ہوگا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے عین بیچ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا ہے جب انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) نے اچانک ریاست میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ٹی ایم سی کی انتخابی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو بھی خاصا گرم کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں قومی شاہراہوں کے اطراف قائم تمام غیر قانونی تجاوزات، بشمول ڈھابے، ہوٹل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے غیر مجاز تعمیرات یا کاروباری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ضلع ہمیرپور کی خواتین اسمارٹ میٹر کے خلاف احتجاج کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ اسمارٹ میٹر کے نام پر جاری بجلی کی لوٹ کے خلاف عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اب سمجھ آ چکی ہے کہ بلا وجہ زیادہ میٹر ریڈنگ اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں کے پیچھے بدعنوانی کارفرما ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اتوار کے روز جھارگرام میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ریاست میں ”نہ پڑھائی ہے، نہ کمائی ہے اور نہ دوائی ہے“، اس لیے اب ٹی ایم سی کو جانا ہی ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر سرگرم ہو گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کے کم از کم پانچ سینئر اراکین پارلیمنٹ مل کر ایک نیا اور جامع نوٹس تیار کر رہے ہیں، جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دلائل اور نئے الزامات شامل کیے جائیں گے۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔