نئی دہلی: ملک میں سڑک حادثات میں اضافے اور قومی شاہراہوں پر بڑھتی ہوئی بدانتظامی کے پیش نظر سپریم کورٹ نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے شاہراہی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ملک گیر گائیڈلائنز جاری کر دیے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ محفوظ سڑک سفر ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حق زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ سپریم کورٹ کی جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اتل چندورکر پر مشتمل بنچ نے دو سنگین سڑک حادثات پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے۔ عدالت نے کہا کہ انتظامی کوتاہی یا بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث ایکسپریس ویز کو ”خطرے کے راستے“ میں تبدیل نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ملک کے کل سڑک نیٹ ورک کا محض دو فیصد حصہ قومی شاہراہوں پر مشتمل ہے، مگر سڑک حادثات میں ہونے والی تقریباً 30 فیصد اموات انہی شاہراہوں پر ہوتی ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں قومی شاہراہوں کے اطراف قائم تمام غیر قانونی تجاوزات، بشمول ڈھابے، ہوٹل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے غیر مجاز تعمیرات یا کاروباری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) یا پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کی منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی تعمیر یا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، جبکہ موجودہ لائسنسوں کا 30 دن کے اندر ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے قومی شاہراہوں پر غیر قانونی پارکنگ کو حادثات کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ کوئی بھی بھاری یا کمرشل گاڑی مخصوص پارکنگ مقامات کے علاوہ شاہراہ کے مرکزی راستے یا کنارے پر کھڑی نہیں کی جا سکے گی۔ ان ہدایات پر عملدرآمد کے لیے ایڈوانسڈ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (ATMS)، جی پی ایس پر مبنی ثبوت اور ای-چالان نظام کو استعمال میں لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت نے مرکزی وزارت برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں، این ایچ اے آئی، ریاستی پولیس اور ٹرانسپورٹ محکموں کو 60 دن کے اندر ان احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی مجسٹریٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شاہراہوں کی نگرانی اور گشت کے لیے معیاری طریقہ کار (ایس او پی) مرتب کریں تاکہ قوانین کی مؤثر عملداری یقینی بنائی جا سکے۔ عدالت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی اہم اقدامات تجویز کیے ہیں۔ اس کے تحت قومی شاہراہوں پر مناسب فاصلے پر جدید ایمبولینس سروس، ٹرکوں کے لیے مخصوص قیام گاہیں اور فوری طبی امداد کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ عدالت نے خاص طور پر حادثات کے زیادہ امکانات والے مقامات، جنہیں ”بلیک اسپاٹس“ کہا جاتا ہے، کی نشاندہی کر کے وہاں روشنی، سائن بورڈز اور دیگر حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی ہدایت دی ہے۔
مزید برآں، عدالت نے 15 دن کے اندر ہر ضلع میں ”ہائی وے سیفٹی ٹاسک فورس“ قائم کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں انتظامیہ، پولیس، این ایچ اے آئی اور مقامی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ ٹاسک فورس نہ صرف نگرانی کرے گی بلکہ حادثات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات بھی تجویز کرے گی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ایک بھی ایسی موت، جسے مناسب اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا تھا، ریاستی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے مرکز کو 75 دن کے اندر عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ اس معاملے کی آئندہ سماعت دو ماہ بعد مقرر کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے یہ احکامات سڑک سلامتی کے شعبے میں ایک اہم قدم ثابت ہوں گے اور اس سے مستقبل میں حادثات میں نمایاں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


