Crude Oil Reserves: بھارت اور جاپان کے درمیان خام تیل کے ذخائر اور سمندری توانائی کی نقل و حمل میں تعاون پر اتفاق، وزیراعظم مودی اور سنائے تاکائیچی کا تعاون کو مزید وسعت دینے کا عزم
مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت کی تیل کمپنیوں، انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ، جاپان کی جاپان آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سکیورٹی اور جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے گرین امونیا، ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور جوہری توانائی سمیت صاف توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
India’s MAHASAGAR Policy: ’’ہندوستان کی مہاساگر پالیسی جاپان کے آزاد اور کھلے بھارت-بحرالکاہل وژن سے ہم آہنگ‘‘ وزیراعظم مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سنائے تاکائیچی کا اظہار خیال
سنائے تاکائیچی نے کہا کہ آئندہ برس ہندوستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوں گے، جسے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے کے بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہند-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے تک لے جانا چاہتی ہوں، اور آئندہ دورے پر وزیر اعظم مودی کا جاپان میں خیرمقدم کرنے کی منتظر ہوں۔
India-Japan Bilateral Ties: ہند-جاپان باہمی تعلقات میں اعتماد ہماری سب سے بڑی اسٹریٹجک طاقت: وزیراعظم
ہندوستان اور جاپان کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی روابط پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں عالمی شراکت داری، 2006 میں اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری اور 2014 میں خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔
Japanese PM arrives India: وزیراعظم مودی کی دعوت پر جاپانی وزیراعظم سنائے تاکائیچی پہنچیں بھارت، 16ویں بھارت-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں ہوں گی شریک
سفارتی ذرائع کے مطابق، اجلاس میں سرمایہ کاری، اختراع، سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، اقتصادی سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری سلامتی، مصنوعی ذہانت، دواسازی، بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی کے شعبے، اوڈیشہ میں گرین امونیا منصوبے، بایو گیس اور POWERR Asia کے تحت علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر پیش رفت متوقع ہے۔
EU Council Presidency: یورپی یونین کونسل کی صدارت سنبھالے گا آئرلینڈ، وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی آئرش وزیر خارجہ سے بات چیت
آئرلینڈ نے اپنی صدارت کے دوران پانچ بنیادی ترجیحات طے کی ہیں، جن میں غیر ضروری انتظامی بوجھ کم کرکے قوانین کو آسان بنانا، یورپی مشترکہ منڈی کو مزید مضبوط کرنا، قابلِ اعتماد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینا، یورپ کے توانائی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت کرنا، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ و مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبوں میں یورپی یونین کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر ڈیجیٹل گورننس میں اس کی پوزیشن مستحکم کرنا شامل ہے۔
G-7 Summit: جی-7 سربراہ اجلاس میں روایتی گروپ فوٹو کے بعد وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی مختصر ملاقات
جی-7 اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی کی کئی اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان شامل ہیں۔ کل وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس ملاقات میں مجوزہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
PM Modi arrives in Bratislava: وزیراعظم نریندر مودی پہنچے براتسلاوا، کہا: ’’یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو بنائے گا مزید مضبوط‘‘
سلوواکیہ کی آزادی کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
Strikes on Vessels: بھارتی جہاز رانوں پر حملوں پر بھارت سخت، وزارت خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو دوسری بار طلب کیا
خلیجِ عمان میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے بعد نئی دہلی نے واشنگٹن کے سامنے شدید احتجاج درج کرایا ہے اور بھارتی ملاحوں کی ہلاکت اور سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
India-US Bilateral Ties: وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور امریکہ عالمی بھلائی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔
PM Modi meets Italian President: وزیراعظم مودی کی اطالوی صدر سے ملاقات، بھارت اور اٹلی کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خلائی تعاون اور ثقافتی روابط بڑھانے پر زور
مشترکہ مضمون میں ’’انڈو-میڈیٹرینین کاریڈور‘‘ کے تصور پر بھی زور دیا گیا، جسے ہند-بحرالکاہل اور بحیرہ روم کے درمیان ابھرتے ہوئے تجارتی، توانائی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک رابطوں کے نئے نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔





