Bharat Express DD Free Dish

Bilateral Ties

مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارت کی تیل کمپنیوں، انڈین اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز لمیٹڈ، جاپان کی جاپان آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سکیورٹی اور جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے گرین امونیا، ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور جوہری توانائی سمیت صاف توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بھی مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

سنائے تاکائیچی نے کہا کہ آئندہ برس ہندوستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوں گے، جسے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے کے بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہند-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے تک لے جانا چاہتی ہوں، اور آئندہ دورے پر وزیر اعظم مودی کا جاپان میں خیرمقدم کرنے کی منتظر ہوں۔

ہندوستان اور جاپان کے تعلقات صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور روحانی روابط پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1952 میں قائم ہوئے، 2000 میں انہیں عالمی شراکت داری، 2006 میں اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری اور 2014 میں خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، اجلاس میں سرمایہ کاری، اختراع، سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، اقتصادی سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری سلامتی، مصنوعی ذہانت، دواسازی، بیٹری ٹیکنالوجی، توانائی کے شعبے، اوڈیشہ میں گرین امونیا منصوبے، بایو گیس اور POWERR Asia کے تحت علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر پیش رفت متوقع ہے۔

آئرلینڈ نے اپنی صدارت کے دوران پانچ بنیادی ترجیحات طے کی ہیں، جن میں غیر ضروری انتظامی بوجھ کم کرکے قوانین کو آسان بنانا، یورپی مشترکہ منڈی کو مزید مضبوط کرنا، قابلِ اعتماد عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینا، یورپ کے توانائی بحران سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت کرنا، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ و مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبوں میں یورپی یونین کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر ڈیجیٹل گورننس میں اس کی پوزیشن مستحکم کرنا شامل ہے۔

جی-7 اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی کی کئی اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان شامل ہیں۔ کل وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس ملاقات میں مجوزہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

سلوواکیہ کی آزادی کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

خلیجِ عمان میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے بعد نئی دہلی نے واشنگٹن کے سامنے شدید احتجاج درج کرایا ہے اور بھارتی ملاحوں کی ہلاکت اور سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور امریکہ عالمی بھلائی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مشترکہ مضمون میں ’’انڈو-میڈیٹرینین کاریڈور‘‘ کے تصور پر بھی زور دیا گیا، جسے ہند-بحرالکاہل اور بحیرہ روم کے درمیان ابھرتے ہوئے تجارتی، توانائی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک رابطوں کے نئے نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔