Bharat Express DD Free Dish

Bihar

چونکہ یہ واقعہ جس مقام پر پیش آیا وہ لکھی سرائے اور جموئی اضلاع کی سرحد پر ہے، اس لیے دونوں اضلاع کی پولیس حد بندی اور دائرہ اختیار کو لے کر ایک دوسرے سے الجھ گئی تھی۔ حادثے کے بعد ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔

اس واقعے نے نہ صرف سوشل میڈیا پر میمز کی باڑھ لا دی، بلکہ ایک نہایت حساس سیاسی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب الیکشن کمیشن بہار میں ایس آئی آر کر رہی ہے۔

ووٹروں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے انتخابات کے بائیکاٹ پر مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ اگر ہمت ہے تو ایک بار یہ لوگ بائیکاٹ کر کے دکھائیں۔ آر جے ڈی ایسی سیاسی پارٹی ہے جس میں اکیلے الیکشن لڑنے کی ہمت نہیں ہے، بائیکاٹ کیا کریں گے؟

پولیس کے مطابق پورے معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا جا رہا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ کشیدہ ماحول کے پیش نظر پولیس نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ پولیس کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’آپریشن سندور اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اب صرف مذمت نہیں کرتا بلکہ دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتا ہے۔‘‘

یہ چونکا دینے والا واقعہ چمپارن ضلع میں پیش آیا، جہاں مہاتما گاندھی نے 10 اپریل 1917 کو اپنی پہلی عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک کا آغاز کیا تھا۔

یہ واقعہ دیہی پٹنہ میں پپرا پولیس اسٹیشن کی حدود میں بی جے پی کے ایک کارکن کے قتل کے 24 گھنٹے کے اندر ہی پیش آیا ہے۔

مرکزی حکومت اور نتیش کمار کی ریاستی حکومت، دونوں پر تنقید کرتے ہوئے آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ اگر ووٹر لسٹ میں کوئی ’’مشکوک نام‘‘ شامل کیا گیا ہے تو اس کی ذمہ داری بہار کی اس حکومت پر عائد ہوتی ہے جو 2005 سے اقتدار میں ہے۔

اس اجلاس میں کانگریس کی بہار یونٹ کے انچارج کرشنا الوارو، وکاس شیل انسان پارٹی کے صدر مکیش ساہنی اور تین بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈران نے شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مزید بتایا کہ اس یوتھ کمیشن میں ایک چیئرمین، دو وائس چیئرمین اور سات ممبران ہوں گے، جن کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 45 سال ہوگی۔