Bharat Express DD Free Dish

Bihar

پپو یادو نے کہا کہ یہ آزادی کی دوسری جنگ ہے۔ ہمیں عوام کے درمیان جا کر ان کے حقوق کے لیے لڑنا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں اپوزیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ سڑکوں پر آکر اس تاناشاہی کے خلاف آواز بلند کریں۔

جن افراد کے نام 2003 کی فہرست میں شامل ہیں، انھیں صرف اپنی تفصیلات کی تصدیق کرنے اور مکمل شدہ گنتی فارم جمع کرانے کی ضرورت ہے۔

یہ مشق بڑے پیمانے پر اور چیلنجنگ ہونے والی ہے، جس میں بہار کے ہر ایک ووٹر کی تصدیق شامل ہے، جہاں ووٹروں کی تعداد تقریباً 7.7 کروڑ ہے۔

ملیکا شیراوت نے کئی بہترین فلموں میں کام کیا، جن میں ’مرڈر‘، ’خواہشیں‘، ’بچکر رہنا رے بابا‘، ’ڈرٹی پولیٹکس‘، ’ویلکم‘، ’پیار کے سائیڈ ایفیکٹس‘، ’ڈبل دھمال‘، ’زینت‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ انہوں نے کئی ہالی ووڈ فلموں جیسے ’دی متھ‘، ’پولیٹکس آف لو‘ اور ’ٹائم رائڈرز‘ میں بھی کام کیا ہے۔

ریاست میں اس سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات بھی متوقع ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ موبائل ووٹنگ کی سہولت اُس وقت بھی فراہم کی جائے گی یا نہیں۔

مرکزی وزیر نے کہاکہ حکومت کا ہدف ہر ریاست میں کم از کم ایک ایٹمی بجلی گھر قائم کرنا ہے تاکہ ملک کی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہاکہ جیسے جیسے ملک کی ترقی کی شرح بڑھتی ہے۔

وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ آج جب بہار تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، جنگل راج لانے والے دوبارہ موقع کی تلاش کر رہے ہیں۔ وہ ایک بار پھر اپنے پرانے کارناموں کو دہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا ہوگا اور ترقی کے اس سفر کو رکنے نہیں دینا ہے۔

پی ایم مودی کھلی گاڑی پر سوار ہوکر لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اسٹیج پر پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بھی گاڑی میں موجود تھے۔ اس دوران پی ایم مودی پر پھولوں کی بارش ہوتی رہی اور وہاں موجود لوگ مودی زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ پی ایم مودی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی ہاتھ ہلا کر لوگوں کا استقبال کرتے رہے۔ اس دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

پیر کے روز عالم گنج کے علاقے میں نامعلوم ملزمان نے گھر میں گھس کر ایک خاندان پر فائرنگ کردی۔ اس واقعے میں ایک ریٹائرڈ نرس اور اس کی بیٹی کی موقع پر ہی موت ہوگئی، جبکہ خاندان کا ہیڈ گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس فی الحال اس معاملے میں مجرموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

پولیس نے منٹو چودھری کو بھی گرفتار کر لیا۔ پولیس کے لیے منٹو کو گرفتار کرنا ضروری تھا کیونکہ جس موبائل فون نمبر سے سمیر رنجن نے پی ایم مودی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی وہ منٹو چودھری کا تھا۔ اس کے بعد جب پولیس منٹو چودھری کے پاس پہنچی تو اس نے بھی پوچھ گچھ کے دوران کئی چونکا دینے والے انکشافات کئے۔