Bharat Express DD Free Dish

Bihar Assembly Election

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے حتمی نتائج نے ریاست کی سیاست میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے، جہاں این ڈی اے نے ریکارڈ توڑ کارکردگی دکھاتے ہوئے پہلی بار 200 سے زائد نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی شاندار اور ریکارڈ توڑ کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی میں واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اس نتیجے کو بہار کے عوام کے تاریخی اعتماد کی سند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”2010 کے بعد پہلی بار بہار کے عوام نے این ڈی اے کو اتنا مضبوط مینڈیٹ دیا ہے۔ میں این ڈی اے کے تمام اتحادیوں کی جانب سے بہار کے عوام کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں“۔

انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے انڈیا الائنس کی ناقص کارکردگی کی بنیادی وجہ اندرونی اختلافات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”جب اتحاد میں شامل پارٹیاں آپس میں ہی مقابلہ کریں گی تو نتائج ایسے ہی آئیں گے۔ بہار میں شکست کی سب سے بڑی وجہ الائنس کی اندرونی کھینچ تان اور بدانتظامی ہے“۔

بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کے شاندار اور فیصلہ کن نتائج کے بعد ملک بھر میں سیاسی گہما گہمی اور جشن کا ماحول ہے۔ بی جے پی اور این ڈی اے کے حامیوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے مسلسل مبارکباد پیش کر کے اس جیت کو تاریخی قرار دیا۔

بہار اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی شاندار اور تاریخی جیت کے بعد اب اس کی سیاسی گونج مہاراشٹر میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ شری سدھی ونایک مندر ٹرسٹ کے خزانچی اور ممبئی بی جے پی کے نو منتخب جنرل سکریٹری آچاریہ پون ترپاٹھی نے کہا ہے کہ بہار کی عوام نے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت، ان کی ترقی کی پالیسی اور بہتر حکمرانی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور یہ جیت مثبت سیاست کی جیت ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی تاریخی اور شاندار کامیابی کے بعد مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے ریاست کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست کے تحت دراندازوں کو بچانے والوں کو عوام نے کرارا جواب دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس کامیابی کو بہار کے باشعور ووٹروں کا فیصلہ اور ترقی و امن کی جیت قرار دیا۔

رکن پارلیمنٹ شامبھوی چودھری نے راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 18 نومبر کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ شامبھوی نے کہا کہ بہار کی عوام نے اپنا فیصلہ صاف کر دیا ہے۔ وہ اگلے پانچ سال کے لیے نتیش کمار کو ہی وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات ہمیشہ سے سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے پہیلی رہا ہے۔ اوپینین پول اور اصل رزلٹ کے درمیان اکثر بڑا فرق دیکھا گیا ہے۔ 2000 سے 2020 تک ریاست میں ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہار کے ووٹر اکثر ماہرین کے اندازے کو الٹا ثابت کر دیتے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹروں نے جمہوریت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے شام 5 بجے تک 67.14 فیصد کی شاندار پولنگ درج کروائی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق یہ شرح پہلے مرحلے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے، جس نے ریاست میں انتخابی جوش کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کے عوام کو اب تک صرف وعدے، جملے، جھوٹ اور فریب ہی ملے ہیں۔ یہ سب اب بہار ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ پچھلے کئی برسوں میں ہم نے بہار کی ترقی کی پالیسی بنانے میں سخت محنت کی ہے۔