Bharat Express DD Free Dish

Bihar Assembly Election

۔اس مرحلے کے 3.70 کروڑ ووٹرز میں سے 1.75 کروڑخواتین ہیں۔ 2.28ووٹرز کی عمریں 30 سے ​​60 سال کے درمیان ہیں۔ 18-19 سال کی عمر کے نوجوان ووٹرز کی تعداد 7.69کروڑ ہے۔

راشٹریہ جنتا دل کی رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی نے این ڈی اے کے رہنماؤں کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں کہا گیا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے 200 سے زائد سیٹوں پر جیت حاصل کرے گا۔ میسا بھارتی نے کہا، ’’مگر یہاں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے جا رہی ہے‘‘۔

مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو کے نوکری دینے کے وعدے کو ’جھوٹا اور ناممکن‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ پردھان نے کہا کہ تیجسوی یادو کے والد لالو پرساد یادو کے دورِ حکومت میں ’نوکری کے بدلے زمین‘ گھوٹالہ ہوا تھا اور آج انہی کے بیٹے دوبارہ نوکریوں کے وعدے کر رہے ہیں۔

مرکزی وزیردھرمیندرپردھان نے کہا کہ پہلے مرحلے میں65.08 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے، جو بہارکی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ یہ عوام کی این ڈی اے حکومت پر بھروسے کی علامت ہے۔

بہار کے سیتامڑھی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی انتخابی ریلی سے قبل ہی عوام میں زبردست جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی لوگ نہ صرف ریلی کے منتظر ہیں بلکہ مودی حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں اور سیتا ماتا کے لیے مجوزہ مندر کی تعمیر پر وزیر اعظم کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ”وہ ووٹ دے کر مودی جی کا قرض چکائیں گے“۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بہار کے بھبھوا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور اس کے حامیوں پر سخت حملہ کیا۔ وزیراعظم نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج آر جے ڈی کا گانا چل رہا ہے ’مارب سکسّر کے، چھ گولی چھاتی میں‘۔ یہی ’جنگل راج‘ والوں کا طور طریقہ اور پلان ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار کے اورنگ آباد میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) پر سخت حملہ بولا۔ وزیر اعظم نے عوام کو خبردار کیا کہ ’’یہ لوگ خود کہہ رہے ہیں کہ اگر بھیا کی حکومت آئی تو کٹّہ-پھرَوتی چلے گی۔ لیکن بہار کو اب ایسی کٹّہ حکومت نہیں چاہیے‘‘۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بہار میں انتخابی ریلی کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ہی یہ طے کر دیا ہے کہ لالو پرساد یادو اور راہل گاندھی کی پارٹیوں کا صفایا یقینی ہے۔ انہوں نے جموئی میں عوامی جوش دیکھ کر کہا کہ ’’11 نومبر کو ای وی ایم کا بٹن اتنی تیز دباؤ، کرنٹ اٹلی تک لگے‘‘ ۔

نائب وزیراعلیٰ وجے سنہا کے قافلے پر حملہ ہوا تھا۔ بتایا گیا کہ انتخابی مہم کے دوران ان کی گاڑی پر کچھ لوگوں نے کیچڑ پھینکا اور نعرے بازی کی۔ سنہا نے کہا کہ یہ واقعہ کھڈیاری گاؤں کا ہے، جہاں انتظامات ٹھیک نہیں کیے گئے تھے۔

راہل گاندھی نے ایک بار پھر ووٹ چوری کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بہار میں لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں، اور جن کے ووٹ کاٹے گئے وہ زیادہ تر مہاگٹھ بندھن کے حامی تھے۔ اسی طرح ووٹر لسٹ میں غلط نام جوڑے گئے ہیں۔