Bharat Express DD Free Dish

Bihar Assembly Election

بہار میں موجودہ حکومت کا مدت کار نومبر تک ہے، اس لیے توقع ہے کہ انتخابات کی شروعات نومبر کے پہلے ہفتے میں ہو سکتی ہے۔ پچھلی بار 2020 میں انتخابات تین مرحلوں میں ہوئے تھے: 28 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس بار بھی دو سے تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کا امکان ہے۔

انھوں نے کہا کہ بہار کے عوام نے آر جے ڈی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو حکومت چلانے کا موقع دیا، لیکن اغوا اور قتل جیسے واقعات رونما ہونے لگے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر غلطی سے بھی ان کی حکومت بنی، تو بہار کے ہر ضلع میں صرف گھس پیٹھیے ہی نظر آئیں گے۔ ہمیں عوام کو بروقت خبردار کرنا ہوگا۔‘‘

امت شاہ 17 ستمبر کی شام پٹنہ پہنچیں گے اور 18 ستمبر کو پارٹی کے عہدیداروں، ارکانِ اسمبلی اور کارکنان کے ساتھ اہم اجلاس کریں گے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد تنظیمی سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانا اور انتخابی حکمتِ عملی پر تبادلہِ خیال کرنا ہے۔ اجلاس میں امت شاہ پارٹی کی جیتنے والی نشستوں اور اراکین کی کارکردگی پر نظرِثانی کریں گے۔

احتجاج کر رہے لوگوں نے بتایا کہ پچھلے دو سال سے کوئی ویکنسی نہیں نکالی گئی ہے، اسی کو لے کر ہم اپنی بات حکومت تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پچھلے دو سال سے ویکنسی نکالنے کی مانگ کی جا رہی ہے لیکن حکومت ہماری مانگوں پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔

بھارت-پاکستان کرکٹ میچ کو لے کر پوچھے گئے سوال پر تیجسوی یادو نے حکومت پر سوال کھڑے کیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم خون، پانی اور رشتہ نہیں چاہتے ہیں تو کرکٹ میچ کیوں ہو رہا ہے؟ لوگ تو سوال اٹھائیں گے اور یہ حکومت سے جائز سوال ہے۔

بہار کی کابینہ نے جمعہ کے روز خواتین کے روزگار کے لیے ایک نئی اسکیم ’مکھیہ منتری مہیلا روزگار یوجنا‘ کو منظوری دی ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ریاست کے تمام خاندانوں کی ایک خاتون کو اپنی پسند کا کام شروع کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کرنا ہے۔

کانگریس ایس آئی آر کو لے کر الیکشن کمیشن کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور اس پر حکمراں بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگا رہی ہے تاکہ اس عمل کی آڑ میں ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کی جا سکے۔

بی جے پی کے ترجمان اجے آلوک نے کہا کہ گاندھی خاندان خود کو سسٹم سے اوپر سمجھتا ہے، جب کہ لالو خاندان خود کو ایک سسٹم سمجھتا ہے۔ لالو خاندان کا اثر ختم ہو چکا ہے اور گاندھی خاندان میں ابھی بھی کچھ توانائی باقی ہے، وہ بھی بہار کے انتخابات میں ختم ہو جائے گی۔

کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ہم ہمیشہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لڑیں گے کہ اقتدار عام لوگوں کے پاس رہے اور تقسیم کرنے والی طاقتوں، دوستوں اور طاقتوروں کے لیے کام کرنے والوں کے ذریعے چھینا نہ جائے۔