Bharat Express DD Free Dish

Bharatiya Janata Party

وجے کمار ملہوترا کی شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 1999 کے لوک سبھا انتخابات میں منموہن سنگھ کو (وزیر اعظم بننے سے قبل) بھاری ووٹوں سے شکست دی تھی۔ بھارتی سیاست کے اہم چہروں میں شامل وجے کمار ملہوترا نے 9ویں اور 14ویں لوک سبھا میں دہلی صدر اور جنوبی دہلی کی نمائندگی کی۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ مل کر انتخابات میں دھاندلی کر رہا ہے اور جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے آئین کی بنیاد ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ کے اصول پر ہے۔

کانگریس لیڈر ادت راج نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وفد میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے نام کیوں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی اور امت شاہ بھی ایم پی ہیں، لیکن ان کے نام وفد میں کیوں شامل نہیں ہیں؟

بھگوا کپڑا پہنے ہوئے درجنوں افراد شام 4 بجے کے قریب شہر سے 40 کلومیٹر دور سکندر کے علاقے میں واقع سالار مسعود غازی کے مزار پر پہنچے۔ یہاں وہ دیواروں کے سہارے درگاہ کی چھت پر چڑھ گئے اور گنبد کے قریب بھگوا جھنڈا ہوا میں لہراتے ہوئے نعرے لگائے۔ اس دوران افراتفری مچ گئی اور تین نوجوان بھگوا جھنڈا اٹھائے گنبد کے پاس پہنچ گئے جبکہ نیچے جمع درجنوں لوگ نعرے لگا رہے تھے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقی پسند، ہمہ جہت، گڈ گورننس ماڈل نے نہ صرف عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی شکست کو یقینی بنایا

الیکشن کمیشن کے مطابق جموں و کشمیر کے 90 حلقوں میں 87.09 لاکھ ووٹر ہیں۔ ان میں سے 42.6 لاکھ خواتین ہیں۔ یہاں پہلی بار نوجوان ووٹروں کی تعداد 3.71 لاکھ ہے جبکہ مجموعی طور پر 20.7 لاکھ نوجوان ووٹرز ہیں، جن کی عمریں 20 سے 29 سال کے درمیان ہیں۔

دھونی کی سالگرہ پر مداحوں کی جانب سے بے شمار مبارکبادیں دی جارہی ہیں۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے بھی انہیں سالگرہ کی مبارکباد دی ہے۔

اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے آئین کی کاپی اور بھگوان شیو کی تصویر لہرائی اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو نشانہ بنایا۔

منگل کے روز ہی کوشامبی سے بی جے پی امیدوار ونود سونکر نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور مرکزی وزیر ڈاکٹر سنجیو بالیان کے ساتھ راجہ بھیا سے ملاقات کی تھی اور ان کی حمایت مانگی تھی۔

اپیل میں سنگھ نے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے 30 اپریل کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں کانگریس کے انتخابی نشان پنجے کے ساتھ الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی ان کی عرضی کو مسترد کر دیا گیا تھا۔