Bharat Express DD Free Dish

Bharatiya Janata Party

رقیب الدین احمد نے الزام لگایا کہ بی جے پی انتخابی فائدے کے لیے جان بوجھ کر ذات، مذہب اور برادری کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہی ہے، جبکہ کانگریس نے کبھی اس طرح کی حکمتِ عملی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ اور شبہات پر مبنی سیاست نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ سماجی اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کلیان سنگھ کی سیاسی بصیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی ہر اسمبلی سیٹ کا انتخابی حساب کتاب ان کے مشوروں سے طے ہوتا تھا۔ وہ رام پرکاش گپت کو اپنا بڑا بھائی مانتے تھے جبکہ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور کلراج مشرا کو تنظیم کی علامت سمجھتے تھے۔

امت شاہ نے کہا کہ نیتاجی سبھاش چندر بوس نے 30 دسمبر 1943 کو قومی پرچم لہرایا اور انڈمان کو آزاد کرایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے احترام میں وزیر اعظم نے ان کی خواہش کے مطابق انڈمان و نکوبار کے دو جزائر کے نام بالترتیب ‘شہید’ اور ‘سوراج’ رکھے ہیں۔

آر جے ڈی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت میں ایک وزیر کا شوہر خواتین کی توہین کر رہا ہے اور اس کی قیمت لگارہا ہے۔ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ بی جے پی کو اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ مہم پارٹی کا پروگرام نہیں بلکہ عوامی تحریک ہے۔ یہ ہر شہری کی آواز ہے جو شفاف اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ جب عوام کی آواز متحد ہو کر گونجے گی، تو جمہوریت کی جڑیں اور مضبوط ہوں گی۔

وجے کمار ملہوترا کی شخصیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 1999 کے لوک سبھا انتخابات میں منموہن سنگھ کو (وزیر اعظم بننے سے قبل) بھاری ووٹوں سے شکست دی تھی۔ بھارتی سیاست کے اہم چہروں میں شامل وجے کمار ملہوترا نے 9ویں اور 14ویں لوک سبھا میں دہلی صدر اور جنوبی دہلی کی نمائندگی کی۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ مل کر انتخابات میں دھاندلی کر رہا ہے اور جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے آئین کی بنیاد ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ کے اصول پر ہے۔

کانگریس لیڈر ادت راج نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وفد میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے نام کیوں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی اور امت شاہ بھی ایم پی ہیں، لیکن ان کے نام وفد میں کیوں شامل نہیں ہیں؟

بھگوا کپڑا پہنے ہوئے درجنوں افراد شام 4 بجے کے قریب شہر سے 40 کلومیٹر دور سکندر کے علاقے میں واقع سالار مسعود غازی کے مزار پر پہنچے۔ یہاں وہ دیواروں کے سہارے درگاہ کی چھت پر چڑھ گئے اور گنبد کے قریب بھگوا جھنڈا ہوا میں لہراتے ہوئے نعرے لگائے۔ اس دوران افراتفری مچ گئی اور تین نوجوان بھگوا جھنڈا اٹھائے گنبد کے پاس پہنچ گئے جبکہ نیچے جمع درجنوں لوگ نعرے لگا رہے تھے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقی پسند، ہمہ جہت، گڈ گورننس ماڈل نے نہ صرف عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی شکست کو یقینی بنایا