Bharat Express DD Free Dish

Bharatiya Janata Party

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک سنگین سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی کی جانب سے منعقدہ اس اہم اجلاس میں مختلف اقلیتی برادریوں کے نمائندے شریک تھے۔ اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے عالمی اور ملکی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اقتصادی بحران بڑھ رہا ہے اور بھارت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔

سروے کے مطابق 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 88 سے زائد نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اسے باآسانی اکثریت کی حد سے آگے لے جاتا ہے۔ دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کو تقریباً 31 نشستیں ملنے کی امید ہے، جبکہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو 4 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دیگر امیدواروں کے حصے میں 3 نشستیں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

راگھو چڈھا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹی سے پہلے بھی کئی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد وابستہ رہے، مگر بعد میں انہوں نے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ سب لوگ بھی غلط ہو سکتے ہیں؟

گوگوئی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ریاست کی سیاست کا معیار اس حد تک گر چکا ہے کہ باہر جا کر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاست کو صاف ستھرا بنانے کے لیے آگے آئیں اور بہتر نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

رقیب الدین احمد نے الزام لگایا کہ بی جے پی انتخابی فائدے کے لیے جان بوجھ کر ذات، مذہب اور برادری کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہی ہے، جبکہ کانگریس نے کبھی اس طرح کی حکمتِ عملی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ اور شبہات پر مبنی سیاست نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ سماجی اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کلیان سنگھ کی سیاسی بصیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی ہر اسمبلی سیٹ کا انتخابی حساب کتاب ان کے مشوروں سے طے ہوتا تھا۔ وہ رام پرکاش گپت کو اپنا بڑا بھائی مانتے تھے جبکہ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور کلراج مشرا کو تنظیم کی علامت سمجھتے تھے۔

امت شاہ نے کہا کہ نیتاجی سبھاش چندر بوس نے 30 دسمبر 1943 کو قومی پرچم لہرایا اور انڈمان کو آزاد کرایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے احترام میں وزیر اعظم نے ان کی خواہش کے مطابق انڈمان و نکوبار کے دو جزائر کے نام بالترتیب ‘شہید’ اور ‘سوراج’ رکھے ہیں۔

آر جے ڈی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت میں ایک وزیر کا شوہر خواتین کی توہین کر رہا ہے اور اس کی قیمت لگارہا ہے۔ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ بی جے پی کو اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ مہم پارٹی کا پروگرام نہیں بلکہ عوامی تحریک ہے۔ یہ ہر شہری کی آواز ہے جو شفاف اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس قیادت کا کہنا ہے کہ جب عوام کی آواز متحد ہو کر گونجے گی، تو جمہوریت کی جڑیں اور مضبوط ہوں گی۔