نئی دہلی :کانگریس کی سینئر لیڈرمیناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا انتخابات کے لیے داخل کردہ نامزدگی مسترد کیے جانے کے معاملے پر آج سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوگی۔ نٹراجن نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا امیدوار کے طور پر اپنے نامزدگی فارم کو رد کیے جانے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے اور اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔جمعرات کو جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس اتل ایس چندرکر پر مشتمل تعطیلاتی بنچ کے سامنے کانگریس لیڈر کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ جمعرات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تھی اور اگر اس معاملے کی جلد سماعت نہ ہوئی تو درخواست گزار کو مؤثر قانونی راحت حاصل کرنے کے لیے چھ سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
SC to hear Meenakshi Natarajan’s plea against Rajya Sabha nomination rejection today
. The Supreme Court is set to hear on Friday a plea by Congress leader Meenakshi Natarajan challenging the rejection of her nomination papers for the Rajya Sabha election from Madhya Pradesh.… pic.twitter.com/OJvMffsMXt
— IANS (@ians_india) June 12, 2026
انہوں نے سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ تنازع کے حتمی تصفیے تک راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج کے اعلان پر عارضی روک لگا دی جائے۔ تاہم جسٹس مشرا کی سربراہی والی بنچ نے اس مرحلے پر کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی تفصیلی سماعت جمعہ کو کی جائے گی۔دوسری جانب ریٹرننگ افسر کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی اور الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو نے فوری مداخلت کی درخواست کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ انتخابی عمل میں غیر ضروری مداخلت مناسب نہیں ہوگی۔یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ ان اعتراضات کے بعد ریٹرننگ افسر نے ان کا نامزدگی فارم مسترد کر دیا تھا۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ نٹراجن نے اپنے حلف نامے میں تلنگانہ کی ایک عدالت میں زیر سماعت مقدمے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، جو انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔
یہ اعتراض حیدرآباد کی چوتھی ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت میں سابق کارپوریٹ ایگزیکٹو اے شری لتا کی جانب سے دائر ایک درخواست پر مبنی ہے۔ اس درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ میناکشی نٹراجن نے کمبھم شیوکمار ریڈی کو سیاسی تحفظ فراہم کیا، جن پر شری لتا نے چھیڑ چھاڑ، مجرمانہ دھمکی اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔میناکشی نٹراجن نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’سیاسی سازش‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور حیدرآباد کی عدالت میں بھی وہ اس درخواست کی مخالفت کر رہی ہیں۔اس سے قبل کانگریس لیڈر نے ریٹرننگ افسر پر ’’ملا بھگت‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش سے کانگریس کی واحد راجیہ سبھا امیدوار نٹراجن کا کہنا ہے کہ ان کی نامزدگی کو مسترد کر کے جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض آئینی عہدیدار اپنی غیرجانبداری کھو کر حکمران جماعت کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اب سپریم کورٹ کی سماعت پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ اس فیصلے کے راجیہ سبھا انتخابات اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


