نئی دہلی: دہلی کی 92 کالونیوں کو او-زون (O-Zone) سے نکالنے کے مطالبے نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جنوبی دہلی سے رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی نے اس معاملے کو لے کر وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے ملاقات کی اور ایک تفصیلی مطالباتی یادداشت پیش کی۔ وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت اور دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) سے بات کریں گی۔رام ویر سنگھ بدھوڑی نے کہا کہ مذکورہ 92 کالونیوں کو 24 مئی 2008 کو دہلی اور مرکزی حکومت نے باقاعدہ طور پر ریگولرائز کر دیا تھا۔ اس وقت متعلقہ رہائشی فلاحی انجمنوں (آر ڈبلیو اے) کو پروویژنل ریگولرائزیشن سرٹیفکیٹ بھی جاری کیے گئے تھے، لیکن بعد میں 8 مارچ 2010 کو اُس وقت کی دہلی اور مرکزی کانگریس حکومتوں نے ان کالونیوں کو ایف-زون (F-Zone) سے نکال کر او-زون میں شامل کر دیا، جس کے باعث یہاں کے رہائشیوں کو متعدد قانونی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بدھوڑی کے مطابق عوامی احتجاج کے بعد 28 ستمبر 2013 کو ڈی ڈی اے نے ایک نوٹس جاری کرکے ان کالونیوں کو دوبارہ ایف-زون میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن آج تک جاری نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) میں ایک مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے باعث اس معاملے پر پیش رفت رک گئی تھی۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی نے بتایا کہ این جی ٹی کا معاملہ 2015 میں ختم ہو گیا تھا، لیکن اس کے باوجود کالونیوں کے مستقبل پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی اے کی جانب سے تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں ان کالونیوں کے حق میں رائے دی تھی۔ کمیٹی نے واضح کیا تھا کہ ان آبادیوں سے نہ تو دریائے جمنا کے پانی کے معیار پر کوئی منفی اثر پڑتا ہے اور نہ ہی دریا کے بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔بدھوڑی نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ 28 ستمبر 2013 کے فیصلے کا فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور ان کالونیوں کو حال ہی میں منظور شدہ 1511 ریگولرائزڈ کالونیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے، تاکہ یہاں کے رہائشیوں کو بھی مالکانہ حقوق حاصل ہو سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ صرف بدرپور اسمبلی حلقے کے میٹھاپور، جیت پور اور ہری نگر وارڈز میں ایسی 45 کالونیاں موجود ہیں، جبکہ نئی دہلی، مشرقی دہلی، شمال مشرقی دہلی، مغربی دہلی اور شمال مغربی دہلی کے پارلیمانی حلقوں میں بھی متعدد کالونیاں اسی مسئلے سے متاثر ہیں۔ان کالونیوں میں 15 لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں اور بیشتر بستیاں نجی زرعی زمینوں پر قائم ہیں۔ اگر انہیں او-زون سے خارج کرکے ریگولرائزیشن کا مکمل درجہ دے دیا جاتا ہے تو لاکھوں خاندانوں کو قانونی تحفظ اور جائیداد کے مالکانہ حقوق حاصل ہو سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو دہلی کے شہریوں کے لیے ایک اہم عوامی مسئلہ تصور کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


