Bharat Express DD Free Dish

Bharat Mandapam

ایرانی صدر نے کہا کہ برکس کے اندر ایک خصوصی بینک قائم کیا گیا ہے اور رکن ممالک کے درمیان باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ ممالک کے درمیان لین دین ڈالر پر انحصار کیے بغیر ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اس سے امریکی ڈالر کی من مانی اور بالادستی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ جب برکس لیڈر اجلاس کی تیاری کر رہے ہیں، ایسے میں یہ بزنس فورم اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے گروپ کے اگلے مرحلے کے لیے واضح کاروباری نقطۂ نظر پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا، ’’جب ہمارے لیڈر اجلاس کی تیاری کر رہے ہیں، تو اس فورم کی سب سے مفید شراکت برکس کے اگلے مرحلے کے لیے ایک واضح کاروباری نقطۂ نظر پیش کرنا ہوگی۔‘‘

برکس سربراہ اجلاس میں اس بار صرف سفارت کاری اور عالمی مسائل پر ہی گفتگو نہیں ہوگی بلکہ بھارت کی مختلف ریاستوں کے ذائقوں اور ہنر کی جھلک بھی دیکھنے کو ملے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ بہار کا ستّو اور مکھانا غیر ملکی مہمانوں کے درمیان خصوصی توجہ کا مرکز بنے گا۔ اجلاس میں آنے والے بین الاقوامی میڈیا نمائندوں اور مہمانوں کو بہار کی ان روایتی مصنوعات سے روشناس کرایا جائے گا۔

نئی دہلی ریلوے اسٹیشن جانے والے مسافروں کے لیے آئی ایس بی ٹی کشمیری گیٹ، بلیوارڈ روڈ، رانی جھانسی مارگ، پنچ کوئیاں روڈ اور آؤٹر سرکل والا راستہ تجویز کیا گیا ہے۔ پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے آئی ایس بی ٹی سے رنگ روڈ، ہنومان مندر اور ایس پی مکھرجی مارگ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔نظام الدین ریلوے اسٹیشن جانے والے مسافروں کو رنگ روڈ، آشرم چوک اور متھرا روڈ سے جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

بھارت اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس بار اجلاس کا موضوع ’’Building for Resilience, Innovation, Cooperation and Sustainability‘‘ رکھا گیا ہے۔

یہ اجلاس صبح ساڑھے گیارہ بجے بھارت منڈپم میں شروع ہوا، جس میں تقریباً 1500 سے زائد نمائندوں نے حصہ لیا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد زرعی ترقی، دیہی معیشت کی مضبوطی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور امدادِ باہمی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے پر غور کرنا تھا۔

بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم مودی نے جمعرات کے روز کانفرنس میں شریک غیر ملکی وفود سے ’سیوا تیرتھ‘ میں رسمی ملاقات کی۔ وزارت خارجہ کی جانب سے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت وزیراعظم نے مختلف ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں کا خیر مقدم کیا۔ اس ملاقات کے دوران باہمی تعلقات، اقتصادی شراکت داری اور عالمی سطح پر مشترکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

’’ای ڈی ڈے 2026‘‘ کی مرکزی تقریب میں اعلیٰ سرکاری شخصیات کی شرکت متوقع۔ ای ڈی ملک کا ایک اہم تحقیقاتی ادارہ ہے، جو وزارتِ خزانہ کے تحت کام کرتا ہے۔ ای ڈی کا بنیادی مقصد منی لانڈرنگ، غیر قانونی مالی لین دین اور اقتصادی جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کرنا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کی حیثیت رکھتی ہے اور بھارت اسے ایک بڑے موقع اور روشن مستقبل کی سمت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج ہم اے آئی کے بارے میں جو کچھ دیکھ اور اندازہ لگا رہے ہیں، وہ اس کے اثرات کی محض ابتدائی جھلک ہے۔