Bharat Express DD Free Dish

Bharat Express

میڈیا، حکومت اور سماج کے درمیان براہِ راست رابطے کی نئی مثال قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ’’تہلکہ سنواد‘‘ جیسے پلیٹ فارم نہ صرف قومی مسائل پر کھلی بحث کو ممکن بناتے ہیں بلکہ پالیسی سازی اور عوامی توقعات کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ تقریب صبح 10 بجے نیلسن منڈیلا آڈیٹوریم میں منعقد ہوگی، جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر بھارت ایکسپریس کے چیئرمین اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے شریک ہوں گے۔ یہ بین الاقوامی کانفرنس میڈیا کے میدان میں بدلتے رجحانات، تحقیق اور تعلیمی ترقی کے حوالے سے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مطالعہ ایک عادت کے طور پر اپنایا جاتا ہے، وہیں ہمارے معاشرے میں کتابوں سے دوری بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 150 کروڑ کی آبادی کے باوجود عالمی سطح پر نمایاں کامیابیوں کی کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمیں اپنی تعلیمی اور فکری سمت پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ایئرپورٹ پر ان کی آمد کے موقع پر منتظمین اور کالج انتظامیہ کے ارکان بڑی تعداد میں موجود تھے۔ جیسے ہی اوپیندر رائے ایئرپورٹ پر پہنچے، انہیں پھولوں کی مالائیں پہنائی گئیں اور روایتی گمچھا پیش کر کے عزت افزائی کی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے مسکراتے ہوئے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا اور خیرمقدمی جذبات کو سراہا۔

بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے سی ایم ڈی و ایڈیٹر اِن چیف اوپیندر رائے نے ”کیلاش گوتم اسمرتی پستکالیہ“ کے افتتاحی موقع پر انسانیت، محبت اور بہادری کے موضوع پر گہرے اور متاثر کن خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں نہ صرف ایک مکمل انسان کی تعریف بیان کی بلکہ بہادر اور بزدل کے درمیان واضح فرق بھی سمجھایا۔

افتتاحی تقریب کے بعد خطاب کرتے ہوئے بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے کہا کہ ادب اور تعلیم کا یہ حسین امتزاج معاشرے کو نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے عوامی شاعر مرحوم کیلاش گوتم کی ادبی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری عام آدمی کی آواز تھی اور ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی مؤثر ہے۔

اُپیندر رائے اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ جدید دور کی سب سے بڑی قدر آزادی ہے اور اس آزادی کو خود کو بہتر بنانے اور قوم کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ 

بھارت کی غلامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے اُپیندر رائے نے کہا کہ جب سکندر اعظم مقدونیہ سے بھارت کی طرف بڑھ رہا تھا، تو چانکیہ نے تمام راجاؤں سے متحد ہونے کی اپیل کی تھی، مگر آپسی اختلافات نے بھارت کو کمزور کر دیا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی یہاں تجارت کے لیے آئے تھے، مگر انہوں نے آپسی تقسیم کا فائدہ اٹھایا اور تقریباً 200 سال تک حکومت کی۔

اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع "بھارت کی بات سناتا ہوں" رکھا گیا ہے۔ اس تھیم کا مقصد بھارتی سنیما کے ذریعے ملک کی ان کہی کہانیوں، جدوجہد اور کامیابیوں کو نوجوان نسل تک پہنچانا ہے۔

اس میگا ایونٹ کے دوران بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے نے نہ صرف دوڑ میں شرکت کی بلکہ فلیگ آف تقریب میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی موجودگی نے شرکاء میں قومی جذبہ مزید مضبوط کیا اور لوگوں نے ملک کے فوجیوں کے لیے اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر مختلف عمر کے افراد نے شرکت کر کے فوجیوں کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور فٹنس کے ساتھ قومی یکجہتی کا پیغام دیا۔