Bharat Express DD Free Dish

Babri Masjid demolition

 لوک سبھا میں رام مندر سے متعلق اسدالدین اوسی نے کہا کہ وہ مریادا پرشوتم رام کا احترام کرتے ہیں اورناتھو رام گوڈسے سے نفرت کرتے ہیں۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ 16 دسمبر، 1992 کو پارلیمنٹ میں ایک تجویزمنظورکرکے کہا گیا کہ کس طرح سے وی ایچ پی، بجرنگ دل اورآرایس ایس نے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلایا اور مسجد کو گرایا گیا۔ اس لوک سبھا میں مسجد منہدم کرنے کی مذمت کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ رام مندر پران پرتشٹھا کا پروگرام 22 جنوری کو مکمل ہوا۔ پران پرتشٹھا میں 7000 سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا۔ رام مندر کروڑوں رام بھکتوں کے بھکتی کی علامت ہے۔ مندر میں بھگوان رام کی 51 انچ کی مورتی نصب کی گئی ہے جسے میسور کے کاریگر ارون یوگی راج نے بنایا ہے۔

تمل  ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن کے بیٹے اور نوجوان امور کے وزیرادھے ندھی اسٹالن نے ایودھیا میں رام مندر پران پرتشٹھا سے متعلق بڑا بیان دے دیا ہے اور ایک بار پھر وہ سرخیوں میں آگئے ہیں۔

ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح سے متعلق زوروشور سے تیاریاں چل رہی ہیں اور رام بھکتوں میں جوش کا ماحول ہے۔ اس درمیان رام مندر سے متعلق سوشل میڈیا پربڑا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

سرسنگھ چالک نے کہا کہ دنیا کی بیشتر ثقافتیں وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو گئیں لیکن ہندو ثقافت ہر طرح کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنے کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ آج بھی ہندوستان میں شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ہر شخص کا ماننا ہے کہ ہمیں اس طرح جینا ہے کہ دنیا اسے دیکھ کر جینا سیکھے۔

چیف جسٹس نے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی مقدمے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر سے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے پر سپریم کورٹ کے متفقہ فیصلے پر تنازعہ کو مزید ہوا نہیں دینے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کسی بھی کیس کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق کرتے ہیں۔

بی جے پی لیڈر اور مسجد محمد بن عبداللہ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین حاجی عرفات شیخ نے کہا کہ ایودھیا میں نئی ​​مسجد (جو ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد ہوگی) میں قرآن کریم کا دنیا کا سب سے بڑا نسخہ بھی ہوگا۔ یہ 21 فٹ اونچا اور 36 فٹ چوڑا ہوگا۔

مختلف سیاسی جماعتوں اورغیرسرکاری تنظیموں کے اراکین نے بدھ کے روزیہاں جنترمنتر کے قریب 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کی 31 ویں برسی کے موقع پر ایک احتجاجی مارچ کیا۔ تاہم پولیس نے مارچ کوروک مظاہرین کومنتشرکردیا۔

بابری مسجد کی شہادت کے حادثہ کے بعد ملک کے کئی علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑک گیا تھا، جن میں جان ومال کا زبردست نقصان ہوا تھا۔