Bharat Express DD Free Dish

Assam NRC

آسام حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو واپس دھکیلنے کے لیے 1950 کے ایک غیر معروف قانون ’امیگرنٹس ایکسپلشن آرڈر‘ کو بنیاد بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ہیمنتا بسوا سرما نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی ان لوگوں کو آدھار کارڈ جاری کرنا بند کر دیا ہے، جنھوں نے این آر سی کے لیے درخواست نہیں دی۔

وزیر اعلیٰ سرما نے بتایا  کہ دھوبری سمیت چار اضلاع ایسے ہیں جہاں آبادی سے زیادہ آدھار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ ان میں سے بارپیٹا میں 103.74 فیصد، دھوبری میں 103 فیصد اور موری گاؤں اور ناگاؤں دونوں میں101 فیصد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

مسلم باشندوں کے ایک بڑے حصے کو خدشہ ہے کہ انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آل انڈیا متوا مہاسنگھ کے جنرل سکریٹری مہتوش بیدیا نے اعتراف کیا کہ سی اے اے کو لے کر مسلمانوں کے ایک حصے میں غصہ اور الجھن ہے۔

چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پربیر پورکایست شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف احتجاج کرنے کی آڑ میں غلط معلومات پھیلانے کی مہم میں ملوث تھے۔

ایڈوکیٹ شیام دیوان نے عدالت کو بتایا کہ اگر غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی گئی تو آنے والی نسلیں بھی اپنا قانونی حق طلب کریں گی جس کی وجہ سے ہندوستان کی سماجی، سیاسی، معاشی حالت پر اثر پڑے گا۔