Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah

یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن لیڈر اور این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نےتیکھا حملہ کیا ہے اور انہیں ملک میں بدعنوانی کا 'کنگ پن' قرار دیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اب ملک یو سی سی کا انتظار کر رہا ہے۔ ووٹ بینک کی سیاست نے ہمارے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ انہوں نےیہ بھی کہا کہ پچھلے 10 سالوں میں پی ایم مودی نے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے کشمیریوں کو آزاد کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’جمہوریت میں فتح کے بعد تکبر آتا ہے ،لیکن یہ پہلی بار ہے کہ تکبر ہار کے بعد آگیا ہو۔ کانگریس مغرور ہو گئی۔ اتنا غرور دو تہائی اکثریت سے جیت کر بھی نہیں آتا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے قومی سلامتی میں شامل تمام ایجنسیوں سے نوجوان، تکنیکی طور پر ماہر اور پرجوش افسروں کی ایک ٹیم تشکیل دینے پر بھی زور دیا جو بگ ڈیٹا اور اے آئی / ایم ایل پر مبنی تجزیات اور تکنیکی ترقی کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ بھوپیندر چودھری نے وزیراعظم مودی اور قومی صدر جے پی نڈا کو پارٹی کی ہارکی وجہ بتائی ہے اور تمام وجوہات کے بارے میں بتایا ہے۔ وہیں دوسری طرف وزیرداخلہ امت شاہ نے بھی پی ایم مودی سے ملاقات کی اور دونوں سینئر لیڈران کے درمیان  ڈیڑھ گھنٹے زیادہ تک میٹنگ چلی۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کو بھی نشانہ بنایا اور کانگریس کو پسماندہ طبقات کی مخالف قرار دیا۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 25 جون 1975 کو اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اپنی آمرانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی لگا کرہندوستانی جمہوریت کی روح کا گلا گھونٹ دیا۔

سکھ فار جسٹس پر پہلی بار 2019 میں پابندی لگائی گئی تھی۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے اس تنظیم کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ریفرنڈم کی آڑ میں یہ تنظیم شدت پسندی اور علیحدگی پسندی کے نظریے کو مسلسل فروغ دے رہی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ درخواست گزار کی طرف سے لگائے گئے الزامات مضحکہ خیز ہیں اور وہ یا تو فریب یا کسی اور ذہنی پریشانی کا شکار ہے

  کرناٹک الیکشن کے دوران 2018 میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ذریعہ وزیرداخلہ امت شاہ سے متعلق کئے گئے تبصرہ پربی جے پی لیڈروجے مشرا نے ہتک عزت کا معاملہ درج کرایا تھا۔