Bharat Express DD Free Dish

America

کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستانی جمہوریت کی حمایت میں ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میک کول، رینکنگ ممبر گریگوری میکس اور دیگر ممتاز قانون سازوں کے حالیہ سخت بیانات کو دیکھتے ہوئے ہم بائیڈن انتظامیہ اور کانگریس پر زور دیتے ہیں کہ وہ ووٹوں کی گنتی کی بے ضابطگیوں اور بیلٹ ٹیمپرنگ کے سخت خدشات پر غور کریں۔

پاکستان عام انتخابات 2024 کی ووٹنگ میں جم کرتشدد ہوا۔ کئی دہشت گردانہ حملے ہوئے، جس میں 10 سیکورٹی اہلکار اور 2 عام شہری مارے گئے۔ ساتھ ہی کئی لوگ زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوئی، جسے لے کرعمران خان نے الیکشن کمیشن پردھاندلی اوربدعوانی کا الزام لگایا ہے۔

امریکی شہری ہونے کے ناتے وٹنی کو ایران کا سفر کرنے کے لیے ایرانی ویزہ درکار تھا، تاہم اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے وٹنی کے دورہ ایران سے متعلق کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ وٹنی رائٹ سوشل میڈیا پر اسرائیل کے خلاف مسلح فلسطینی جدوجہد کی حمایت کرتی رہی ہیں، یہ وجہ بھی ہے کہ ان کے دورے کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے۔

امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ حملوں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، راکٹ، میزائل اور ڈرون سٹوریج کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ لاجسٹکس اور گولہ باری کی سپلائی چین سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔فوج نے کہا کہ حملوں میں سات مقامات پر 85 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گی۔

25 سالہ طالب علم وویک سینی جارجیا کے لیتھونیا میں ایک اسٹور میں کام کرتا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس واردات کو انجام دینے والا ایک بے گھر شخص تھا۔ ملزم کی شناخت جولین فاکنر کے نام سے ہوئی ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز بنکاک میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سے ملاقات کی۔

امریکہ میں مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی شق 1982 کے بعد شروع ہوئی اور اس کے بعد سے عام طور پر سزائے موت دینے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں قتل کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے سوشل میڈیا پر وارننگ جاری کردی۔ انہوں نے ملزم کو مسلح اور خطرناک قاتل قرار دیا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 کی میزبانی امریکہ اور ویسٹ انڈیز کریں گے۔ آئی سی سی نے رواں سال جون کے مہینے میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے بڑا انکشاف کر دیاہے، جس میں بتایا گیا کہ ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنے والا امریکہ عارضی تیاریاں کرے گا۔

انتخابات کے نتائج، جن کا اعلان ہفتہ کی شام کو متوقع ہے، پر بیجنگ سے واشنگٹن تک گہری نظر رکھی جائے گی کیونکہ دونوں سپر پاورز تزویراتی طور پر اہم خطے میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔