Bharat Express DD Free Dish

All India Mushaira

’کلچرل وسٹا– آپ اورہم‘ کے زیرِ اہتمام عظیم شاعر بشیر بدر کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ پروگرام کا تعارف ممتاز ناظم مشاعرہ معین شاداب نے پیش کیا۔ جبکہ عمراظہار نے ناظمِ مشاعرہ کی ذمہ داری نبھائی۔ پروگرام کی کنوینر زرین صدیقی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

آل انڈیا مشاعرہ وکوی سمیلن میں اقبال اشہر نے صدارت کے فرائض  انجام دیے۔ ڈاکٹر سید فاروق مہمانِ خصوصی اور شالنی سنگھ نے مہمانِ اعزاز ی کے طور پر شرکت کی جبکہ معین شاداب نے ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔

بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا ہے۔ اس خاص سیشن میں سجے گی نامور شعرا و شاعرات اور کویوں  کی محفل،  ڈاکٹر سید فاروق مہمانِ خصوصی اور حاجی قمرالدین مہمانِ اعزاز ہوں گے۔

تقریب کی صدارت درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ ارشد فریدی چشتی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ’رنگِ صوفیانہ‘ کا مقصد چشتی صوفیانہ کلام کے ذریعے اخوت، محبت اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔

اندور کے رویندر ناٹیہ گرہ میں منعقدہ آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرے میں سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے پہلی بار اسٹیج سے اپنی شاعری پیش کی۔ ان کی نظم اور غزل پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

اندور کے رویندر ناٹیہ گرہ میں منعقدہ آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرے میں ملک بھر سے آئے شعرا نے سامعین کو مسحور کر دیا۔ اس پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے خصوصی طور پر موجود رہے اور انہوں نے شاعرانہ انداز میں خطاب کیا۔

اندور کے رویندر ناتیاگھر میں تمام ہندوستانی کوی سمیلن اور مشاعرے کا شاندار انعقاد۔ بھارت ایکسپریس کے CMD اپیندر رائے کی خاص موجودگی، اور سی ایم موہن یادو خیرسگالی کے پیغامات دیں گے۔

کھرگاؤں میونسپلٹی کے آل انڈیا مشاعرے میں شاعر ابو بکر ضیا پر جان لیوا حملہ ہوا۔ ’مسجد کے صدر‘ پر کہی گئی ایک شاعری سے بھیڑ مشتعل ہو گئی اور اسٹیج پر چڑھ کر انڈے پھینکے۔ پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

وشال چودھری نے مشاعرہ سننے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جس طرح اردو زبان ختم ہوتی جا رہی ہے وہ نہایت تکلیف دہ ہے۔ آج ہماری قوم کے وہ لوگ، جن کی یہ زبان ہے، نہ خود اسے پڑھتے ہیں اور نہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں، یہاں تک کہ دو روپے کا اردو اخبار بھی نہیں خریدتے۔

بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو میں منعقدہ مشاعرے کی گونج بہت دیر تک سنی جائے گی۔ مشاعرے نے تاریخ رقم کرتے ہوئے شام کے منظر کو مزید حسین اور یادگار بنادیا۔ مشاعرے وکوی سمیلن کی صدارت شکیل اعظمی نے کی، مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروفیسر رحمان مصور شریک ہوئے جبکہ معین شاداب نے ناظم مشاعرہ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیے۔