Bharat Express DD Free Dish

Akash Anand

مایاوتی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اشوک سدھارتھ نے سنیاس لینے کا فیصلہ بہت دیر سے کیا۔ اگر انہیں اپنے داماد آکاش آنند کے روشن مستقبل یا بہوجن تحریک کے وسیع تر مفاد کی فکر ہوتی تو وہ بغیر تاخیر کے پہلے ہی سنیاس کا اعلان کر دیتے۔ س سے آکاش آنند کی پارٹی اور تحریک کے تئیں سرگرمی کافی حد تک یقینی بنائی جا سکتی تھی۔مایاوتی کا کہنا ہے کہ وقت پر سنیاس کا فیصلہ نہ لینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اشوک سدھارتھ کی نیت میں کھوٹ ہے

بی ایس پی کی آل انڈیا میٹنگ میں مایاوتی نے واضح کیا کہ آکاش آنند کو فی الحال پارٹی میں کوئی بڑی ذمہ داری نہیں دی جائے گی، کیونکہ انہیں ابھی مزید سیاسی پختگی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ آکاش آنند کو پارٹی میں کام کرنے کی اجازت ہے، لیکن جب تک وہ مکمل طور پر میچور اور تجربہ کار نہیں ہوجاتے، اس وقت تک انہیں تنظیم میں کوئی بڑی ذمہ داری دینا مناسب نہیں ہوگا۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے نوجوان لیڈر آکاش آنند نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے بڑے لیڈروں  راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کے بارے میں بھی ایک دلچسپ بیان دیا ہے۔

بی ایس پی کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں مایاوتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پارٹی کے لوگوں کی رضامندی سے آکاش آنند کو پارٹی کا اہم قومی رابطہ کار بنایا گیا ہے اور انہیں ملک میں پارٹی کے مستقبل کے پروگرام بھی سونپے گئے ہیں۔

آکاش آنند کی عوامی معافی کے بعد مایاوتی نے انہیں ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا، جانشینی کو خارج کر دیا جبکہ سسر اشوک سدھارتھ کی پارٹی میں واپسی کا دروازہ بند کر دیا، آکاش آنند نے سوشل میڈیا پر معافی مانگتے ہوئے دوبارہ پارٹی میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ سسرالی رشتے اب رکاوٹ نہیں ہوں گے

مایاوتی نے کہا تھا کہ پارٹی کے مفاد میں آکاش آنند کو پارٹی کی تمام ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے، جس کے لیے پارٹی نہیں بلکہ ان کے سسر اشوک سدھارتھ ہی ذمہ دار ہیں۔ جس نے آکاش آنند کا سیاسی کیرئیر بھی خراب کر دیا ہے۔ اب اس کی جگہ آنند کمار پہلے کی طرح پارٹی کے تمام کام کرتے رہیں گے۔

مایاوتی نے آنند کمار کو قومی رابطہ کار بنایا ہے۔ مایاوتی نے راجیہ سبھا کے رکن رام جی گوتم کی ذمہ داری بڑھا دی اور اب وہ قومی رابطہ کار بھی ہوں گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  آتشی نے تمام رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد پیر کو دہلی کے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالا، اس دوران انہوں نے اپنے ساتھ ایک کرسی خالی چھوڑی ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کرسی اروند کیجریوال کی منتظر ہے۔

ہریانہ میں آئندہ اسمبلی الیکشن سے پہلے انڈین نیشنل لوک دل اور بی ایس پی کے درمیان الائنس ہوگیا ہے۔ ہریانہ کی 90 سیٹوں میں سے بی ایس پی 37 سیٹوں پرالیکشن لڑے گی۔ ابھے چوٹالہ الائنس کے لیڈرہوں گے۔

بی ایس پی کے قومی کوآرڈینیٹر آکاش آنند کو مایاوتی نے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران سیتا پور میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے بعد اہم ذمہ داریوں سے ہٹا دیا تھا۔ اس کی وجہ ان کی ناپختگی بتائی گئی۔