Bharat Express DD Free Dish

Air Pollution

بھارت میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں، کوئی بھی آلودگی سے نمٹنے میں سنجیدہ نظر نہیں۔ ظاہر ہے کہ آلودگی سے لڑنے کے لیے طویل المدتی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے، جب کہ ہوا کو زہریلی ہونے سے بچانے کے لیے لوگوں کو اپنی سطح پر تمام کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

سردیوں کے دوران بھارت کے دارالحکومت دہلی میں 72 فیصد ہوا شمال مغرب سے آتی ہے۔ ان ہواؤں کے ساتھ راجستھان، پاکستان اور افغانستان کی دھول ملک کی راجدھانی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک پہنچ جاتی ہے۔

گوپال رائے نے کہا، "تین وجوہات کی وجہ  سے آلودگی بڑھ رہی ہے، جس میں پرالی ، پٹاخے اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں شامل ہے۔

پاکستان کے لاہور میں واقع میو اسپتال میں آلودگی کے شکار 4000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا ،جب کہ جناح اسپتال میں 3500 مریضوں کا علاج کیا گیا۔

آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کو دیکھتے ہوئے، دہلی میں لاگو GRAP قوانین کے تحت، دہلی حکومت نے سرکاری دفاتر کے کام کے لیے مختلف اوقات کا اعلان کیا۔ دہلی حکومت کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے یہ حکم جاری کیا۔

دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے آلودگی کے معاملے پر بی جے پی اور مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے آلودگی پر خاموشی کا اپواس رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سو رہی ہے۔

دہلی میں آلودگی کو لے کر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ اس معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کورٹ روم کے اندر AQI لیول 990 سے اوپر ہے۔

اتوار کو 'شدیدخراب' زمرے میں پہنچ گیا تھا۔ دہلی میں AQI شام 4 بجے 441 پر ریکارڈ کیا گیا، جو کہ منفی موسم کی وجہ سے شام 7 بجے تک بڑھ کر 457 ہو گیا۔دہلی میں پیر کے روز آلودگی مزید جان لیوا ہو گئی ہے۔ دہلی کے بیشتر علاقوں میں AQI 700 سے زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ AQI

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، صبح 7:30 بجے دہلی کا مجموعی AQI 428 تھا، جو ’شدید‘ زمرے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ دہلی-این سی آر شہروں فرید آباد میں فضائی آلودگی کی سطح 268، گروگرام 287، غازی آباد 379، گریٹر نوئیڈا 342 اور نوئیڈا میں 304 تھی۔

پنجاب حکومت میں سینئر وزیر، مریم اورنگزیب نے جمعہ (15 نومبر 2024) کو لاہور میں اس معاملہ پر میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اسموگ کا مسئلہ کا سنگین ہے، لوگوں کے صحت پر اس کے مضر اثرت پڑ سکتے ہیں۔